ملفوظات (جلد 6) — Page 186
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۶ ہے۔ وہ ذکر الہی کرنے میں بے انتہا جوش اپنے اندر پاتا ہے اور پھر گن کر ذکر کرنا تو کفر سمجھتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ عارف کے دل میں جو بات ہوتی ہے اور جو تعلق اپنے محبوب و مولا سے اسے ہوتا ہے وہ کبھی روا رکھ سکتا ہی نہیں کہ تسبیح لے کر دانہ شماری کرے۔ کسی نے کہا ہے من کا منکا صاف کر۔ انسان کو چاہیے کہ اپنے دل کو صاف کرے اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا کرے۔ تب وہ کیفیت پیدا ہوگی اور وہ ان دانہ شماریوں کو بیچ سمجھے گا۔ تعداد رکعات پھر پوچھا گیا کہ نمازوں میں تعداد رکعات کیوں رکھی ہے؟ فرمایا۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اور اسرار رکھے ہیں۔ جو شخص نماز پڑھے گا وہ کسی نہ کسی حد پر تو آخر رہے گا ہی اور اسی طرح پر ذکر میں بھی ایک حد تو ہوتی ہے لیکن وہ حد وہی کیفیت اور ذوق و شوق ہوتا ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔ جب وہ پیدا ہو جاتی ہے تو وہ بس کر جاتا ہے۔ دوسرے یہ بات حال والی ہے قال والی نہیں۔ جو شخص اس میں پڑتا ہے وہی سمجھ سکتا ہے۔ اصل غرض ذکر الہی سے یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو فراموش نہ کرے اور اسے اپنے سامنے دیکھتا رہے اس طریق پر وہ گناہوں سے بچا رہے گا۔ تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ ایک تاجر نے ستر ہزار کا سودا لیا اور ستر ہزار کا دیا مگر وہ ایک آن میں بھی خدا سے جدا نہیں ہوا ۔ پس یا درکھو کہ کامل بندے اللہ کے وہی ہوتے ہیں جن کی نسبت فرما یا لا تُنهيهِمْ تِجَارَةً وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللهِ ( النور : ۳۸) جب دل خدا کے ساتھ سا تعلق اور عشق پیدا کر لیتا ہے تو وہ اس سے الگ ہوتا ہی نہیں۔ اس کی ایک کیفیت اس طریق پر سمجھ میں آسکتی ہے کہ جیسے کسی کا بچہ بیمار ہو تو خواہ وہ کہیں جاوے، کسی کام میں مصروف ہو مگر اس کا دل اور دھیان اسی بچہ میں رہے گا۔ اسی طرح پر جو لوگ خدا کے ساتھ سچا تعلق اور محبت پیدا کرتے ہیں ۔ وہ کسی حال میں بھی خدا کو فراموش نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفی کہتے ہیں کہ عام لوگوں کے رونے میں اتنا ثواب نہیں ہے جتنا عارف کے ہنسنے میں ہے۔ وہ بھی تسبیحات ہی ہوتی ہیں کیونکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے عشق اور محبت میں رنگین ہوتا ہے۔ یہی مفہوم اور غرض اسلام کی ہے کہ وہ آستانہ الوہیت پر اپنا سر رکھ دیتا ہے ۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۲۱ مورخه ۲۴ رجون ۱۹۰۴ صفحه ۱