ملفوظات (جلد 6) — Page 185
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۵ جاوے یہی نیکی ہے۔ ایسا نہیں ۔ اسی طرح پر تسبیح کے متعلق بات ہے۔ قرآن شریف میں تو آیا ہے وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (الانفال : ۴۶) اللہ کا بہت ذکر کرو تا کہ تم فلاح پاؤ۔ اب یہ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا نماز کے بعد ہی ہے تو ۳۳ مرتبہ تو کثیر کے اندر نہیں آتا۔ پس یا درکھو کہ ۳۳ مرتبہ والی بات حسب مراتب ہے ورنہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو سچے ذوق اور لذت سے یاد کرتا ہے، اسے شمار سے کیا کام ۔ وہ تو بیرون از شمار یاد کرے گا۔ ایک عورت کا قصہ مشہور ہے کہ وہ کسی پر عاشق تھی۔ اس نے ایک فقیر کو دیکھا کہ وہ تسبیح ہاتھ میں لیے ہوئے پھیر رہا ہے۔ اس عورت نے اس سے پوچھا کہ تو کیا کر رہا ہے۔ اس نے کہا کہ میں اپنے یار کو یاد کرتا ہوں ۔ عورت نے کہا کہ یار کو یاد کرنا اور پھر گن گن کر ۔ در حقیقت یہ بات بالکل سچی ہے کہ یار کو یاد کرنا ہو تو پھر گن گن کر کیا یا د کرنا ہے اور اصل بات یہی ہے کہ جب تک ذکر الہی کثرت سے نہ ہو وہ لذت اور ذوق جو اس ذکر میں رکھا گیا ہے حاصل نہیں ہوتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ۳۳ مرتبہ فرمایا ہے وہ آنی اور شخصی بات ہوگی ، کوئی شخص ذکر نہ کرتا ہوگا تو آپ نے اسے فرمادیا کہ ۳۳ مرتبہ کر لیا کر۔ اور یہ جو تسبیح ہاتھ میں لے کر بیٹھتے ہیں یہ مسئلہ بالکل غلط ہے۔ اگر کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات سے آشنا ہو تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ آپ نے کبھی ایسی باتوں کا التزام نہیں کیا۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں فنا تھے۔ انسان کو تعجب آتا ہے کہ کس مقام اور درجہ پر آپ پہنچے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے۔ رات کو جو میری آنکھ کھلی تو میں نے آپ کو اپنے بستر پر نہ پایا۔ مجھے خیال گذرا کہ کسی دوسری بیوی کے گھر میں ہوں گے۔ چنانچہ میں نے سب گھروں میں دیکھا مگر آپ کو نہ پایا۔ پھر میں باہر نکلی تو قبرستان میں دیکھا کہ آپ سفید چادر کی طرح پر زمین پر پڑے ہوئے ہیں اور سجدہ میں گرے ہوئے کہہ رہے ہیں سَجَدَ لَكَ رُوحِي وَ جَنَانِي - اب بتاؤ کہ یہ مقام اور مرتبہ ۳۳ مرتبہ کی دانہ شماری سے پیدا ہو جاتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ جب انسان میں اللہ تعالیٰ کی محبت جوش زن ہوتی ہے تو اس کا دل سمندر کی طرح موجیں مارتا