ملفوظات (جلد 6) — Page 182
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۲ کرے گا ہوتا رہے گا۔ اصل علاج یہی ہے کہ خدا سے صلح کی جاوے۔ اس قدر تقریر کے بعد رئیس مذکور اپنے احباب کو لے کر نیاز مندی سے سلام کر کے رخصت ہوا۔ لاہور میں جو لوگ طاعون طاعون سے محفوظ رہنے کے لیے زیارتیں لے کر نکلنا لاہور میں جوا سے محفوظ رہنے کے لیے نماز پڑھنے کے واسطے زیارتیں لے کر نکلتے ہیں اُن کا ذکر ہو رہا تھا۔ اس پر فرمایا۔ جو لوگ اب باہر جا کر نمازیں پڑھتے ہیں اور زیارتیں نکالتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ پوری صفائی نہیں کرتے۔ سچی تبدیلی کا ارادہ نہیں معلوم ہوتا ۔ ورنہ پھر وہی شوخی اور بے باکی کیوں نظر آ رہی ہے۔ اگر سچی تبدیلی ہو تو ممکن نہیں کہ طاعون نہ ہٹ جائے ۔ تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف جب میں کہتا ہوں کہ سچی تبدیلی کرو اور استغفار کرو ۔ خدا تعالیٰ سے صلح کرو تو میری ان باتوں پر ہنسی کرتے ہیں اور ٹھٹھے اڑاتے ہیں اور اب خود بھی دعا ہی اس کا علاج بتاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ طاعون ان کے ہی سبب سے آیا ہے کیونکہ انہوں نے جھوٹے دعوے کئے تھے۔ مجھے ان کی اس بات پر بھی تعجب اور افسوس آتا ہے کہ میں تو جھوٹے دعوے کر کے سلامت بیٹھا ہوں حالانکہ بقول ان کے طاعون میرے ہی سبب سے آیا ہے اور مجھے ہی حفاظت کا وعدہ دیا جاتا ہے۔ یہ عجیب معاملہ ہے۔ یہ بات تو ان عدالتوں میں بھی نہیں ہوتی کہ صریح ایک مجرم ہو وہ چھوڑ دیا جاوے اور بے گناہ کو پھانسی دے دی جاوے۔ پھر کیا خدا تعالیٰ کی خدائی ہی میں یہ اندھیر اور ظلم ہے کہ جس کے لیے طاعون بھیجا جاوے وہ تو محفوظ رہے اور اس کو سلامتی کا وعدہ دیا جاوے اور وہ ایک نشان ہوا اور دوسرے لوگ مرتے رہیں۔ میں کہتا ہوں اسی ایک بات کو لے کر کوئی شخص انصاف کرے اور بتادے کہ کیا ہو سکتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر افترا کرے وہ سلامت رہے اور اس کو یہ وعدہ دیا جائے کہ تیرے گھر میں جو ہو گا وہ بھی بچایا جاوے گا اور دوسروں پر چھری چلتی رہے؟ یہ تو وہی شیعوں کی سی بات ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نبوت دراصل حضرت علی کو ملنی تھی اور انہیں کے واسطے جبریل لائے تھے مگر غلطی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی اور تئیس سال تک برابر یہ غلطی چلی گئی اور اس کی اصلاح نہ ہوئی ۔ ایسا ہی اب بھی غلطی لگ