ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 183

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۳ گئی ۔ جن کی حفاظت کرنی تھی وہ تو مر رہے ہیں اور جو حفاظت کے لائق نہ تھے ان کی حفاظت کا وعدہ ہو گیا!!! بھلا اس قسم کی باتوں پر کوئی تسلی پاسکتا ہے۔ ایک امرتسری ملا کا ذکر آیا کہ وہ کہتا ہے کہ ایک سال گذر گیا تو کیا طاعون سے معجزانہ حفاظت ہوا۔ ابھی آگے دیکھنا چاہیے۔ فرمایا۔ وہ تو ایک سال کا کہتا ہے ہم تو یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے جو وعدہ کیا ہے وہ بالکل سچا ہے اور اس کے دورے تو ستر ستر سال تک ہوتے ہیں۔ وہ منتظر رہیں اور دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ ہم بھی ان کے ساتھ انتظار کرتے ہیں۔ وہ ہماری نسبت اگر کوئی خبر خدا سے پاچکے ہیں تو شائع کر دیں ۔ ہم کو تو جو کچھ خدا نے بتایا ہے ہم نے تو اس کو شائع کر دیا ہے اور دنیا کو معلوم ہو گیا ہے۔ وہ صبر کے ساتھ اب انجام تک دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے۔ یہ لوگ ہماری نسبت طرح طرح کی گردشیں چاہتے ہیں ۔ وہ آخران پر ہی لوٹ کر پڑتی ہیں۔ ایک بٹالوی مولوی نے ایک مرتبہ کہا کہ قادیان میں طاعون پڑی ہوئی ہے اور خود اُن کو بھی گلٹی نکلی ہوئی ہے۔ یہ ان کی امانی ہیں۔ کیا گلٹی اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر نکل سکتی ہے؟ جب تک آسمان پر ایک تغیر نہ ہو زمین پر کچھ نہیں ہو سکتا ۔ ان دنوں جب قادیان میں طاعون پڑی ہوئی تھی ہم خدا تعالیٰ کی قدرت کا عجیب نظارہ دیکھ رہے تھے۔ ہمارے گھر کے ادھر ادھر سے چیچنیں آتی تھیں اور ہمارا گھر درمیان میں اس طرح تھا جیسے سمندر میں کشتی ہوتی ہے۔ اُس نے محض اپنے فضل وکرم سے اسے محفوظ رکھا جیسا اس نے فرمایا تھا اور آئندہ بھی ہم اس کے فضل و کرم سے یقین رکھتے ہیں کہ وہ ہماری حفاظت فرمائے گا۔ ہندوؤں کے ہاتھ سے پکا ہوا کھانا اس کے بعد ایک فص نے سوال کیا کہ کیا ہندوؤں کے سے ہاتھ کا کھانا درست ہے؟ فرمایا۔ شریعت نے اس کو مباح رکھا ہے۔ ایسی پابندیوں پر شریعت نے زور نہیں دیا بلکہ شریعت نے تو قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا (الشمس : ۱۰) پر زور دیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آرمینیوں کے ہاتھ کی بنی ہوئی چیزیں کھا لیتے تھے اور بغیر اس کے گزارہ بھی تو نہیں ہوتا ہے۔