ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 181

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۱ جلد ششم کہ جہاں و با پڑی ہوئی ہو وہاں بھی کوئی آدمی تندرست جگہ سے نہ جاوے لیکن یہ کبھی منع نہیں ہے کہ لوگ اپنے گھروں سے نکل کر باہر کھلے میدانوں میں اور کھیتوں میں نہ جاویں یہ بلکہ ضروری ہے اور اس سے عموماً فائدہ پہنچتا ہے۔ جہاں طاعون ہو فوراً اس گھر کو خالی کر دینا چاہیے اور باہر کھیتوں یا کھلے میدانوں میں بے شک چلے جاؤ بلکہ ایسا کرنا ضروری ہے۔ ریکیں ۔ جناب تعجب ہی ہے کہ خدا کے ہوتے ہوئے یہ غضب ہورہا ہے۔ حضرت اقدس ۔ یہ خدا تعالیٰ کی باتیں ہیں ان میں دخل نہیں دینا چاہیے ۔ خدا نے تو خود دنیا پر یہ غضب نازل کیا ہے اگر لوگ خدا تعالیٰ کے وجود پر ایمان لاتے تو اس قدر شرارتیں جو زمین پر ہو رہی ہیں نہ کرتے اور خدا تعالیٰ کے غضب سے ڈر جاتے مگر آپ دیکھتے ہیں کہ خدا کا اقرار کر کے پھر دنیا پر ظلم اور فساد ہو رہا ہے اور خدا تعالیٰ کے حکموں کی ہرگز پابندی نہیں کی جاتی تو یہ تو ایک قسم کی خدا کے ساتھ بھی ہنسی ہے پھر خدا تعالیٰ اس کو کب پسند کر سکتا ہے۔ اب یہ غضب آیا ہے جو دنیا کو سیدھا کرے گا۔ خود اسی نے بھیجا ہے وہ اپنے اسرار کو آپ ہی جانتا ہے ہم لوگوں کو اس کی قدرتوں میں دخل دینے کا کیا حق ہے جب وقت آ جائے گا وہ خود رحم فرمائے گا اور اس عذاب کو اٹھا لے گا۔ وہ ظالم نہیں ہے وہ تو ارحم الراحمین ہے۔ ریکیں ۔ حضور اب تو رحم ہونا چاہیے۔ آپ ہی کچھ کریں۔ حضرت اقدس۔ میں دیکھتا ہوں کہ ابھی دنیا کی اصلاح ہونی ضروری ہے۔ ہم تو خدا تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے ہر ایک فعل کو سراسر حکمت سمجھتے ہیں۔ یہ عذاب جو اس نے نازل کیا ہے یہ بھی حکمت سے خالی نہیں ہے۔ لوگوں کے اعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی ان کو تکلیف نہیں ہے۔ اگر وہ اس تکلیف کو محسوس کر لیتے تو میں دیکھتا کہ ان میں تبدیلی شروع ہو جاتی مگر ایسا نہیں ہے۔ رہا ہمارا رحم یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ ہم اس کی قضا و قدر پر ہر طرح راضی ہیں اور اسے دیکھتے ہیں۔ البتہ جب وہ خود ہمارے دل میں یہ بات ڈالے گا تو ہم اس پر یقین رکھتے ہیں کہ ہماری دعاؤں کو سن لے گا اور سب کچھ کر دے گا ۔ فی الحال تو جو ہو رہا ہے اس کی عین مرضی کے موافق ہے جب تک وہ پسند