ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 180

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۰ جلد ششم دیکھتا ہے کہ اس کے سام کے ساتھ معاملہ کیسا ہے؟ اگر اللہ تعالیٰ سے معاملہ صاف نہ ہو تو یہ چالاکیاں اور بھی خدا کے غضب کو بھڑکاتی ہیں۔ چاہیے تو یہ کہ انسان خدا کے ساتھ معاملہ صاف کرے اور پوری فرمانبرداری اور اخلاص کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرے اور اس کے بندوں کو بھی کسی قسم کی اذیت نہ دے۔ ایک شخص گیروی کپڑے پہن کر یا سبز لباس کر کے فقیر بن سکتا ہے اور دنیا دار اس کو فقیر بھی سمجھ لیتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ تو اس کو خوب جانتا ہے کہ وہ کسی قسم کا آدمی ہے اور وہ کیا کر رہا ہے۔ پس طاعون کا اصل اور صحیح علاج یہی ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں سے تو بہ کرے اور اُس کی حد بندیوں کو نہ توڑے اور اس کی مخلوق کے ساتھ رحم کرے۔ بد معاملگی نہ کرے اور یہ سب کام اخلاص کے ساتھ کرے لوگوں کو دکھانے کی نیت سے نہ کرے۔ اگر اس قسم کی کوئی تبدیلی کرے گا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ رحم کے ساتھ اس پر نظر کرے گا۔ ریکیں ۔ جناب لوگ باہر جاتے ہیں اور اس کو بھی مفید سمجھتے ہیں مگر مولوی لوگ مخالفت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم گھروں سے نکلنے میں خدا کے ساتھ شرک کرتے ہو۔ مولویوں کے ایسے فتوے دینے سے بھی بہت سے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ حضرت اقدس۔ اللہ تعالیٰ تو علاج سے منع نہیں کرتا ہے۔ علاج بھی اسی نے رکھے ہیں۔ فرمایا۔ لوگ دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے واسطے قسم قسم کے منصوبے کرتے ہیں اور ریا کاریوں سے کام لیتے ہیں۔ مگر جب تک خدا تعالیٰ کسی کو منتخب اور برگزیدہ نہ کرے کچھ نہیں ہو سکتا۔ دیکھو کسی کو بھوک پیاس لگتی ہے تو وہ روٹی کھاتا ہے یا پانی پیتا ہے۔ اسی طرح پر بیماریوں کے علاج بھی ہیں اور اشیاء میں خواص بھی اسی کے رکھے ہوئے ہیں۔ یہ مولویوں کی غلطی ہے جو ایسا کرتے ہیں اور لوگوں کو تباہ کرتے ہیں۔ خدا تو منع کرتا ہے کہ انسان عذاب کی جگہ پر نہ رہے لیکن ہاں جب بیماری شدت کے ساتھ پھیل جاوے تو یہ مناسب نہیں کہ انسان اس گاؤں یا شہر سے نکل کر کسی دوسرے گاؤں یا شہر میں جاوے اور یہ اس لیے منع ہے کہ جو لوگ و بازدہ گاؤں سے نکلتے ہیں وہ متاثر آب و ہوا سے نکل کر دوسری جگہ کو متاثر کرتے ہیں اور پھر بیمار ہو کر مر جاتے ہیں ۔ ایسا ہی یہ بھی منع ہے