ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 179

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۹ جلد مامور کر کے بھیجا ہے جو اس کے نوکر کی طرح ہے۔ خدا تعالیٰ کے حکم کے بغیر تو ایک پتا اور ذرہ بھی حرکت نہیں کر سکتا۔ یہ اور بد بختی ہے کہ باوجود یکہ طاعون ایک خطرناک ڈرانے والا ہے مگر اس پر بھی خدا کی طرف توجہ نہیں کرتے اور خدا کی باتوں کو ہنسی اور ٹھٹھے میں اڑاتے ہیں۔ خدا سے نہیں ڈرتے اور دل پاک وصاف نہیں کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ جب تک اہل دنیا اپنی اصلاح اور تبدیلی نہیں کریں گے اس وقت تک اس عذاب کو نہیں اٹھائے گا۔ میں دیکھتا ہوں کہ لوگوں کو اس طرف بھی بالکل توجہ نہیں ہے۔ جب کسی گاؤں یا شہر میں بیماری پڑتی ہے تو چند روز کے لیے ایک خوف پیدا ہوتا ہے مگر وہ خوف بھی اللہ تعالیٰ کے واسطے نہیں اور نہ ایسا کہ اس کے ذریعہ کوئی اصلاح کریں بلکہ موت کا ڈر ہوتا ہے کہ کہیں ہم بھی مر نہ جاویں اور یہ جائیداد اور اسباب کسی دوسرے کے قبضہ میں نہ چلا جاوے۔ یونہی ذرا سا وقفہ ہوتا ہے پھر وہی شرارت اور شوخی اور نہیں ڈرتے کہ اس کے دورے بہت لمبے ہوتے ہیں ۔ رئیس ۔ جناب! بظاہر زمانہ اچھا بھی معلوم ہوتا ہے۔ اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ بھگتی وغیرہ بھی کرتے ہیں۔ حضرت اقدس ۔ دل نہیں ہیں جو کچھ ہے پوست ہی پوست ہے۔ ظاہر داری کے طور پر اگر کچھ کیا جاتا ہے تو کیا جاتا ہے۔ دل والی روح ہی اور ہوتی ہیں۔ ان کی آنکھیں صاف ہوتی ہیں۔ ان کی زبان صاف ہوتی ہے۔ ان کے چال چلن میں ایک خاص امتیاز ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے لرزاں ترساں رہتے ہیں ۔ نری زبان درازی سے کوئی اللہ تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتا۔ مجازی حکام کو جو اصل حالات سے نا واقف ہیں کوئی خوش کر لیوے مگر اللہ تعالیٰ کی نظر تو دل پر ہے اور وہ دل کے مخفی در مخفی خیالات تک کو جانتا ہے۔ پس جب تک انسان سچے دل سے خدا تعالیٰ کی طرف نہیں آتا ریا کاری اور ظاہرداری سے کچھ نہیں بنتا۔ خدا تعالیٰ سچی تبدیلی چاہتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ ابھی وہ پیدا نہیں ہوئی جب لوگ تبدیلی کریں گے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کچھ حصہ بھی لوگوں کا درست ہو جاوے گا تو اللہ تعالیٰ رحم کرے گا۔ یہ تو اور بھی چالا کی ہے کہ لوگوں کے سامنے نیک بنتے ہیں اور اپنے آپ کو بڑا متقی اور خدا ترس ظاہر کرتے ہیں اور اندرونی طور پر بڑی بڑی خرابیاں ان میں موجود ہوتی ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ دنیا کے ظاہری بحث و مباحثہ میں ہزاروں مذہب پیدا ہو گئے ہیں مگر خدا تعالیٰ