ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 178

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۸ جلد حاجت ہی نہ ہوتی ۔ پس ہم ان مخالفوں کے وجود کو بھی بے مطلب نہیں سمجھتے۔ ان کی چھیڑ چھاڑ اللہ تعالیٰ کو غیرت دلاتی ہے اور اس کی نصرت اور تائیدات کے نشانات ظاہر ہوتے ہیں۔ غرض خدا کے ماموروں کا یہ خاص نشان ہوتا ہے کہ وہ اپنی پرستش کرانا نہیں چاہتے جس طرح پر وہ لوگ جو پیر بننے کے خواہشمند ہیں چاہتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنی پوجا کرائے تو کیا وجہ ہے کہ دوسرے انسان کے بچے اس پوجا کے مستحق نہ ہوں؟ میں سچ کہتا ہوں کہ ایک مرید اس مرشد سے ہزار درجہ اچھا ہے جو مکر کی گدی پر بیٹھا ہوا ہو کیونکہ مرید کے اپنے دل میں کھوٹ اور دغا نہیں ہے۔ خدا تعالٰی اخلاص کو چاہتا ہے۔ ریا کاری پسند نہیں کرتا ہے۔ لے و رمتی ۱۹۰۴ء ( بمقام گورداسپور ) طاعون کا عذاب ایک ہندو رئیس کے بعض استفسارات کے جوابات حضرت اقدس حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام درختوں کے سایہ میں حسب معمول تشریف فرما تھے کہ دینا نگر کے دو ہندو رئیس آپ کی زیارت کو تشریف لائے ۔ ان کے ساتھ اور بھی چند آدمی تھے۔ انہوں نے نہایت ادب اور احترام کے ساتھ سلام عرض کیا اور پھر طاعون کی مصیبت کا رونا رونا شروع کیا اور کہا کہ بڑا اختلاف مذاہب کا ہو گیا ہے۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا۔ اس زمانہ میں نرا اختلاف مذاہب ہی نہیں رہا۔ اختلاف مذاہب کے سوا لوگوں نے خدا تعالیٰ کو بالکل چھوڑ دیا ہے اس لیے خدا تعالیٰ نے اپنی سنت کے موافق یہ عذاب نازل کیا ہے ۔ کیونکہ دنیا میں فسق و فجور بہت بڑھ گیا ہے ۔ شرارتوں اور چالا کیوں کی کوئی حد نہیں رہی ہے۔ طاعون کو اللہ تعالیٰ نے الحکم جلد ۸ نمبر ۱۹ ، ۲۰ مورخہ ۱۰، ۷ ارجون ۱۹۰۴ء صفحه ۲،۱