ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 177

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۷ جلد وہ ان کے تعلقات صافیہ اور صدق و وفا کی وجہ سے انہیں اس قابل پاتا ہے کہ انہیں اپنی رسالت کا منصب سپر د کرے ۔ یہ بالکل سچی بات ہے کہ انبیاء علیہم السلام پر ایک قسم کا جبر کیا جاتا ہے۔ وہ کوٹھڑیوں میں بیٹھ کر عبادت کرتے ہیں اور اسی میں لذت پاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی کو ان کے حال پر اطلاع نہ ہو مگر اللہ تعالیٰ جبراً ان کو کوٹھڑی سے باہر نکالتا ہے پھر ان میں ایک جذب رکھتا ہے اور ہزار ہا مخلوق طبعاً ان کی طرف چلی آتی ہے۔ اگر فریب ہی کا کام ہو تو پھر وہ سرسبز کیوں ہو۔ پیر اور گدی نشین آرزو رکھتے ہیں کہ لوگ ان کے مرید ہوں اور ان کی طرف آئیں مگر مامور اس شہرت کے خواہشمند نہیں ہوتے ہاں وہ یہ ضرور چاہتے ہیں کہ مخلوق الہی اپنے خالق کو پہچانے اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا کرلے۔ وہ اپنے دل میں بخوبی سمجھتے ہیں کہ ہم کچھ چیز ہی نہیں ہیں۔ خدا تعالیٰ بھی ان کو ہی پسند کرتا ہے کیونکہ جب تک ایسا مخلص نہ ہو کام نہیں کر سکتا ہے۔ ریا کار جو خدا کی جگہ اپنے آپ کو چاہتے ہیں وہ کیا کر سکتے ہیں اس لیے خدا ان کو پسند کرتا ہے کیونکہ وہ دنیا کے آسائش و آرام کے آرزو مند نہیں ہوتے۔ ریا کاری ایک بہت بڑا گند ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ریا کار انسان فرعون سے بھی بڑھ کر شقی اور بد بخت ہوتا ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کو نہیں چاہتے بلکہ اپنی عزت اور عظمت منوانا چاہتے ہیں لیکن جن کو خدا پسند کرتا ہے وہ طبعاً اس سے متنفر ہوتے ہیں ان کی ہمت اور کوشش اسی ایک امر میں صرف ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کا جلال ظاہر ہو اور دنیا اس سے واقف ہو۔ وہ ایسی حالت میں ہوتے ہیں اور پسند کرتے ہیں کہ دنیا ان کو نہ پہچان سکے مگر ممکن نہیں ہوتا کہ دنیا ان کو چھوڑ سکے کیونکہ وہ دنیا کے فائدہ کے لیے آتے ہیں۔ ان لوگوں کے جو دشمن اور مخالف ہوتے ہیں ان سے بھی ایک فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نشانات ان کے سبب سے ظاہر ہوتے ہیں اور حقائق و معارف کھلتے ہیں۔ ان کی چھیڑ چھاڑ سے عجیب عجیب انوار ظاہر ہوتے ہیں اگر ابو جہل وغیرہ نہ ہوتے تو قرآن شریف کے تیس سیپارے کیوں کر ہوتے؟ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سی فطرت والے ہی اگر سب ہوتے تو ایک دم میں وہ مسلمان ہو جاتے ۔ ان کو کسی نشان اور معجزہ کی