ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 176

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۶ جلد ششم بخاری میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے مومن کی جان لینے میں تردد ہوتا ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ مومن کو یکدفعہ نہیں پکڑتا ہے پھر اس کے ساتھ نرمی کرتا ہے پھر پکڑتا ہے اور چھوڑ دیتا ہے یہ حالت گویا تر ڈد سے مشابہ ہے۔ پہلی کتابوں میں بھی اس قسم کے الفاظ آئے ہیں کہ خدا پچھتایا۔ میرے الہام میں بھی افْطِرُ وَاصُومُ اسی رنگ کے الفاظ ہیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ جس مومن کے وجود میں خلق اللہ کا نفع ہو اور اس کی موت شمانت کا باعث ہو وہ کبھی طاعون سے نہیں مرے گا۔ میں جانتا ہوں اور قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ابھی تک کوئی ایسا آدمی طاعون سے نہیں مرا جس کو میں پہچانتا ہوں یا وہ مجھے پہچانتا ہو جو شناخت کا حق ہے۔ امام اور پیشوا وہی ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے اذن اور حکم سے مامورین کا خاص نشان مامور ہو کر آوے۔ اس میں اللہ تعالی ایک جذب کی قوت رکھ دیتا ہے جس کی وجہ سے سعادت مند روحیں خواہ وہ کہیں ہوں اس کی طرف کھچی چلی آتی ہیں ۔ جذب کا پیدا ہونا اپنے اختیار میں نہیں ہے بناوٹ سے یہ بات پیدا نہیں ہو سکتی ۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جو لوگ خدا کی طرف سے مامور ہو کر آتے ہیں وہ اس بات کے حریص اور آرزو مند نہیں ہوتے کہ لوگ ان کے گرد جمع ہوں اور اس کی تعریفیں کریں بلکہ ان لوگوں میں طبعاً مخفی رہنے کی خواہش ہوتی ہے اور وہ دنیا سے الگ رہنے میں راحت سمجھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مامور ہونے لگے تو انہوں نے بھی عذر کیا۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غار میں رہا کرتے تھے وہ اس کو پسند کرتے تھے مگر اللہ تعالیٰ خود ان کو باہر نکالتا ہے اور مخلوق کے سامنے لاتا ہے۔ ان میں ایک حیا ہوتی ہے اور ایک انقطاع ان میں پایا جاتا ہے۔ چونکہ وہ انقطاع تعلقات صافی کو چاہتا ہے اس لیے وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک لذت اور سرور پاتے ہیں لیکن ن وہی انقطاع اور صفائی قلب اللہ تعالیٰ کی نظر میں ان کو پسندیدہ بنا دیتی ہے اور وہ ان کو اصلاح خلق کے لیے برگزیدہ کر لیتا ہے ۔ جیسے حاکم چاہتا ہے کہ اسے کا رکن آدمی مل جاوے اور جب وہ کسی کا رکن کو پالیتا ہے تو خواہ وہ انکار بھی کرے مگر وہ اسے منتخب کر ہی لیتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو مامور کرتا ہے