ملفوظات (جلد 6) — Page 175
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۵ جلد چنانچہ آخر إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَ رَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا ( النصر : ٢، ٣) کا نظارہ نظر آگیا۔ اسی طرح پر طاعون کا حال ہے۔ اس وقت لوگوں کو تعجب معلوم ہوتا ہے اور وہ اعتراض کرتے ہیں لیکن ایک وقت آتا ہے جب طاعون اپنا کام کر کے چلی جائے گی اس وقت معلوم ہوگا کہ اس نے کس کو نفع پہنچایا اور کون خسارہ میں رہے گا۔ یہ اس زمانہ کے لیے ایک عظیم الشان نشان ہے جس کا ذکر سارے نبی کرتے چلے آئے ہیں اور طاعون سے اس قدر جلدی لوگ حق کی طرف آرہے ہیں کہ پہلے نہیں آئے تھے۔ خلیفہ صاحب ۔ حضور ! کیا ایسے لوگ مامون ہو جائیں گے؟ حضرت اقدس ۔ اس میں کیا شک ہے کہ وہ امن میں تو ہو گئے۔ اگر اس سلسلہ میں ہوکر ان میں سے کوئی مر بھی جاوے تو وہ شہادت ہوگی اور خدا کے مامور پر ایمان لانے کا یہ فائدہ تو حاصل ہو گیا۔ میں نے جس قدر طاعون کے متعلق کھول کھول بیان کیا ہے کسی نے نہیں کیا۔ متواتر میں اس پیشگوئی کو شائع کرتا رہا اور خدا تعالیٰ نے مختلف رنگوں میں مختلف اوقات میں اس کے متعلق مجھ پر کھولا اور میں نے لوگوں کو سنایا يَا مَسِيحَ الْخَلْقِ عَدُوَانا بہت پرانا الہام ہے جو چھپ کر شائع ہو چکا ہے۔ پھر وہ سیاہ پودوں والی رؤیا اور ہاتھی والی رؤیا ۔ غرض یہ طاعون خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آئی ہے اور اپنا کام کر رہی ہے۔ بعض لوگ شرارت سے کہتے ہیں کہ یہ طاعون ان کی شامت اعمال سے آئی ہے۔ یہ تو وہی بات ہے جیسے حضرت موسی کو الزام دیا تھا۔ مگر کوئی ان سے پوچھے کہ یہ عجیب بات ہے کہ شامت اعمال سے تو ہماری آئی ہے اور ہماری حفاظت کو خدا تعالیٰ ایک نشان قرار دیتا ہے اور مر رہے ہیں دوسرے۔ اس وقت ایک خاص تبدیلی کی ضرورت ہے۔ خدا تعالیٰ کا غضب بھڑ کا ہوا ہے۔ جو اب بھی تبدیلی نہیں کرتے خدا تعالیٰ ان کی پروا نہیں کرے گا اِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بانفسهم اسی طاعون کے متعلق میرا الہام ہے۔ لے 1 الحکم جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۴ صفحه ۳