ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 174

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۴ جلد ششم میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت خدا کے فضل سے غیر معمولی طور پر بڑھ رہی ہے اور اس کی وجہ طاعون ہی ہے۔ بعض ایسے لوگوں کی درخواستیں بیعت کے واسطے آئی ہیں جو طاعون میں مبتلا ہو کر لکھتے ہیں کہ اس وقت مجھے طاعون ہوا ہوا ہے اگر زندہ رہا تو پھر آ کر بھی بیعت کرلوں گا فی الحال تحریری کرتا ہوں۔ طاعون کے ذریعہ سے کئی ہزار آدمی اس سلسلہ میں شامل ہوئے ہیں ۔ خلیفہ صاحب ۔ وہ جنگ تو اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے تھا۔ حضرت اقدس ۔ یہ طاعون بھی اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے ہی ہے۔ خدا تعالیٰ نے دونشان مسیح موعود کی سچائی کے لیے زمینی اور آسمانی اور بہت سے نشانوں کے سوا مقرر کئے تھے۔ آسمانی نشان تو کسوف و خسوف کا تھا جو رمضان کے مہینہ میں واقع ہو گیا جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ دوسرا زمینی نشان طاعون کا تھا وہ بھی پورا ہو گیا۔ ابھی طاعون کا پنجاب میں نام ونشان بھی نہ تھا جب میں نے اس کی خبر دی تھی اس وقت شتاب کار لوگوں نے جلد بازی کی اور خدا تعالیٰ کے اس بزرگ نشان کو ہنسی میں اڑانا چاہا مگر اب گو وہ زبان سے اقرار نہ کریں مگر ان کے دلوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ وہ پیشگوئی جو طاعون کے متعلق تھی پوری ہو گئی ۔ اس نشان سے اعلاء کلمۃ اللہ اس طرح پر ہوگا کہ لوگ آخر جب اس کو عذاب الہی سمجھ کر اس کے موجبات پر غور کریں گے اور فسق و فجور اور شرارت و استہزا چھوڑ کر خدا تعالیٰ کی طرف آئیں گے اور سمجھ لیں گے کہ خدا حق ہے تو اس سے اعلاء کلمۃ اللہ ہو گا یا نہیں؟ جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے یہ طاعون ہمارے لیے کام کر رہی ہے۔ اگر اس گروہ میں ایک شہید ہو جاتا ہے تو اس کے قائم مقام ہزار آتے ہیں۔ یہ نادانوں کا شبہ فضول ہے کہ کیوں مرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں صحابہ جنگ میں کیوں شہید ہوتے تھے؟ کسی مولوی سے پوچھو کہ وہ جنگ عذاب تھی یا نہیں؟ ہر ایک کو کہنا پڑے گا کہ عذاب تھی۔ پھر ایسا اعتراض کیوں کرتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جا پڑتا ہے لیکن اگر کوئی کہے کہ پھر نشان مشتبہ ہو جاتا ہے ہم کہتے ہیں کہ نہیں نشان مشتبہ نہیں ہوتا اس واسطے کہ انجام کار کفار کا ستیا ناس ہو گیا اور ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا اور اسلام ہی اسلام نظر آتا تھا