ملفوظات (جلد 6) — Page 173
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۳ ہے۔ ہر اتوارکو زیارتیں نکال کر باہر لے جاتے ہیں۔ اور اس فعل کو دفعیہ طاعون کے لیے کافی سمجھتے ہیں ۔ مسلمانوں کی اس حالت پر خلیفہ صاحب افسوس کر رہے تھے اور اپنے مختلف حالات سناتے رہے۔ آخر آپ نے عرض کیا۔ خلیفہ صاحب ۔ طاعون میں بعض مقامات پر جو ہمارے احباب مرتے ہیں اور لوگ اعتراض کرتے ہیں ۔ اس کا کیا جواب دیا جاوے؟ رض حضرت اقدس۔ اصل بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی مامور کو دنیا میں بھیجتا ہے تو سنت اللہ یہی ہے کہ تنبیہ کے لیے کوئی نہ کوئی عذاب بھی بھیجتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کی مخالفت حد سے بڑھ جاتی ہے اور شوخی اور شرارت میں اہلِ دنیا بہت ترقی کر جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے بکلی دور جا پڑتے ہیں۔ وہ عذاب اگر چہ سرکش منکرین کے لیے ہوتا ہے مگر سنت اللہ یہی ہے کہ مامور کے بعض متبعین بھی شہید ہو جاتے ہیں وہ عذاب اوروں کے لیے عذاب ہوتا ہے مگر ان کے لیے باعث شہادت۔ چنانچہ قرآن شریف صاف طور پر بتاتا ہے کہ کفار جو بار بار عذاب مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ تم پر عذاب بصورت جنگ نازل ہوگا۔ آخر جب وہ سلسلہ عذاب کا شروع ہوا اور کفار کے ساتھ آنحضرت رت صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائیاں ہونے لگیں تو کون کہہ سکتا ہے کہ ان جنگوں میں صحابہ شہید نہیں حالانکہ یہ مسلم بات ہے کہ وہ تو کفار پر عذاب تھا اور خاص ان کے ہی لیے آیا تھا مگر صحابہ کو بھی چشم زخم پہنچا اور بعض جو علم الہی میں مقدر تھے شہید ہو گئے ۔ جن کی بابت خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا لا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ (البقرة : ۱۵۵) بَلْ أَحْيَاء عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ (آل عمران: ۱۷۰) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کیے جاویں ان کو مردے مت کہو بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک زندہ ہیں اور اسی جگہ ان کی نسبت فرمایا فَرِحِيْنَ بِمَا اللهُمُ اللهُ (ال عمران:۱۷۱) اب بتاؤ کہ وہ جنگ ایک ہی قسم کا تھا لیکن وہ کفار کے لیے عذاب تھا مگر صحابہؓ کے لیے باعث شہادت ۔ اسی طرح پر اب بھی حالت ہے لیکن انجام کار دیکھنا چاہیے کہ طاعون سے فائدہ کس کو رہتا ہے ہم کو یا ہمارے مخالفین ہوئے ، حالا کو ۔ اس وقت معلوم ہوگا کہ کون کم ہوئے اور کون بڑھے۔