ملفوظات (جلد 6) — Page 172
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۲ جلد سے کے ساتھ حد سے تجاوز ہوا ہو اور کسی قسم کی جدائی اور دوئی اس کے رگ وریشہ میں نہ : اور یشہ میں نہ پائی جاتی ہوا۔ وہ ہرگز کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی اور جو ہمارا مرید الہی محبت کی آگ سے جلتا ہوگا اور خدا کو حقیقی طور پر پالینے کی خواہش کمال درجہ پر اس کے سینہ میں شعلہ زن ہوگی اسی پر بیعت کا لفظ حقیقی طور پر صادق آوے گا یہاں تک کہ کسی قسم کے ابتلا کے نیچے آکر وہ ہرگز متزلزل نہ ہو بلکہ اور قدم آگے بڑھاوے۔ لیکن جبکہ لوگ ابھی تک اس حقیقت سے واقف نہیں ہیں اور ذرا ذراسی بات پر وہ ابتلا میں آجاتے ہیں اور اعتراض کرنے لگتے ہیں تو پھر وہ اس آگ سے کس طرح محفوظ رہ سکتے ہیں۔ بیعت کی حقیقت بیعت کا لفظ ایک وسیع منی رکھتا ہے اور اس کا مقام ایک انتہائی تلق کا مقام ہے کہ جس سے بڑھ کر اور کسی قسم کا تعلق ہو ہی نہیں سکتا ۔ بعض لوگ ایسے ہیں کہ وہ ہمارے نور کی پوری روشنی میں نہیں ہیں۔ جب تک انسان کو ابتلا کی برداشت نہ ہو اور ہر طرح سے وہ اس میں ثابت قدمی نہ دکھا سکتا ہو تب تک وہ بیعت میں نہیں ہے۔ پس جو لوگ صدق و صفا میں انتہائی درجہ تعلق پر پہنچے ہوئے ہیں خدا تعالیٰ ان کو امتیاز میں رکھتا ہے طاعون کے ایام میں جو لوگ بیعت کرتے ہیں وہ سخت خطر ناک حالت میں ہیں کیونکہ صرف طاعون کا خوف ان کو بیعت میں داخل کرتا ہے۔ جب یہ خوف جاتا رہا تو پھر وہ اپنی پہلی حالت پر عود کر آویں گے۔ پس اس حالت میں ان کی بیعت کیا ہوئی ؟ ۸ رمتی ۱۹۰۴ء حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام طاعون کا نشان اور جماعت احمد یہ گورداسپور تھے۔ ہمارے کرم خلیفہ رجب الدین صاحب تاجر برنج لاہور بھی شرف نیاز کے لیے آئے ہوئے تھے۔ خلیفہ صاحب ایک روشن خیال اور ذی فہم آدمی ہیں وہ لاہور کے حالات ذکر کرتے رہے کہ وہاں کے مسلمانوں کی عجیب حالت ہو رہی ل البدر جلد ۳ نمبر ۱۸ ، ۱۹ مورخه ۱۶،۸ رمتی ۱۹۰۴ ء صفحه ۴