ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 171

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۱ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ان دنوں لوگوں کو اور بعض جماعت کے آدمیوں کو بھی طرح طرح کے شکوک و شبہات پیش آرہے ہیں اس لیے میرا ارادہ ہے کہ ایک رسالہ لکھ کر اصل حقیقت بیعت اور الہامات سے اطلاع دی جاوے جس سے لوگوں کو معلوم ہو کہ بعض لوگ بیعت میں داخل ہو کر کیوں طاعون سے مرتے ہیں؟ فرمایا کہ ایک نشان ان دنوں ایک دفعہ میری بغل میں ایک گلٹی نکل آئی۔ میں نے اسے مخاطب ہو کر کہا کہ تو کون ہے جو مجھے ضرر دے سکے اور خدا کے وعدہ کو ٹال سکے۔ تھوڑے عرصہ میں وہ خود بخود ہی بیٹھ گئی ۔ فرمایا۔ مدت کا یہ میرا الہام - ہے کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے فرمایا۔ مدت کا یہ میر آگ سے ہمیں مت ڈرا آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔“ یہ ویسے ہی ہے جیسے حدیث شریف میں ہے کہ بعض بہشتی بطور سیر دوزخ کو دیکھنا چاہیں گے اور اس میں اپنا قدم رکھیں گے تو دوزخ کہے گی کہ تو نے تو مجھے بھی سرد کر دیا۔ یعنی بجائے اس کے کہ دوزخ کی آگ اسے جلاتی خادموں کی طرح آرام دہ ہو جاوے گی ۔ عادت اللہ یہی ہے کہ دو ناریں ( دو آگ ) ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں ۔ محبت الہی بھی ایک نا رہے اور طاعون کو بھی نار لکھا ہے۔ لیکن ان میں سے ایک تو عذاب ہے اور دوسری انعام ہے، اسی لیے طاعون کی نار کی ایک خاص خصوصیت خدا تعالیٰ نے رکھی ہے۔ اس میں آگ کو جو غلام کہا گیا ہے میرا مذہب اس کے متعلق یہ ہے کہ اسماء اور اعلام کو ان کے اشتقاق سے لینا چاہیے ۔ غلام غلمہ سے نکلا ہے جس کے معنے ہیں کسی بھے کی خواہش کے واسطے نہایت درجہ کا مضطرب ہونا یا ایسی خواہش جو کہ حد سے تجاوز کر جاتی ہے اور انسان پھر اس سے بیقرار ہو جاتا ہے اور اسی لیے غلام کا لفظ اس وقت صادق آتا ہے جب انسان کے اندر نکاح کی خواہش جوش مارتی ہے پس طاعون کا غلام اور غلاموں کی غلام کے بھی یہی معنے ہیں کہ جو شخص ہم سے ایک ایسا تعلق اور جوڑ پیدا کرتا ہے جو کہ صدق و وفا کے تعلقات