ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 170

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۰ جلد آگیا ہے کہ اس کی ذات کو طوعاً و کر ہا مانا جاوے۔ اصل میں سب جگہ دہریت ہے۔ آجکل کی محفلوں کا یہ حال ہے کہ دعا، تو کل اور انشاء اللہ کہنے پر تمسخر کرتے ہیں۔ ان باتوں کو بیوقوفی کہا جاتا ہے ورنہ اگر خدا سے ان کو ذرا بھی اُنس ہوتا تو اس کے نام سے کیوں چڑتے ؟ جس کو جس سے محبت ہوتی ہے وہ ہیر پھیر سے کسی نہ کسی طرح سے محبوب کا نام لے ہی لیتا ہے۔ اگر ان کے نزدیک خدا کوئی شئے نہیں ہے تو اب موت کا دروازہ کھلا ہے اسے ذرا بند کر کے تو دکھلا ہیں۔ تعجب ہے کہ ہمیں جس قدر اس کے وجود پر امیدیں ہیں اسی قدر وہ دوسرا گر وہ اس سے نا امید ہے۔ اصل میں خدا کے فضل کی ضرورت ہے۔ اگر وہ دل کے قفل نہ کھولے تو اور کون کھول سکتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو ایک کتے کو عقل دے سکتا ہے کہ اس کی باتوں کو سمجھ لیوے اور انسان کو محروم رکھ سکتا ہے۔ طاعون کو سب وشتم کرنا منع ہے کیونکہ وہ تو مامور ہے۔ ہاں طاعون کو گالی دینا منع ہے خدا سے صلح کرنی چاہیے کہ وہ اسے ہٹالیوے۔ لے اما ولد الكبة الد ۶ خدا تعالیٰ کی وحی پر کامل ایمان آج دن کو مولوی محمد علی صاحب ایم اے میجر ایڈیٹر رسالہ ریویو آف ریلیجنز کی طبیعت علیل ہو گئی اور در دسر اور بخار کے عوارض کو دیکھ کر مولوی صاحب کو شبہ گذرا که شاید طان مدرا کہ شاید طاعون کے آثار ہیں۔ جب اس بات کی خبر حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کو ہوئی تو آپ فوراً مولوی صاحب کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ میرے دار میں ہو کر اگر آپ کو طاعون ہو تو پھرائی احافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ الہام اور یہ سب کا روبار گو یا عبث ٹھہرا۔ آپ نے نبض دیکھ کر ان کو یقین دلایا کہ ہرگز بخار نہیں ہے۔ پھر تھرما میٹر لگا کر دکھایا کہ پارہ اس حد تک نہیں ہے، جس سے بخار کا شبہ ہواور فرمایا کہ میرا تو خدا کی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسے اس کی کتابوں پر ہے۔ ل البدر جلد ۳ نمبر ۱۸ ، ۱۹ مورخه ۱۶،۸ امتی ۱۹۰۴ صفحه ۴