ملفوظات (جلد 6) — Page 169
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۹ جلد اور خدا کے منشا کے خلاف ایک مفتری کا منصوبہ تھا تو خدا نے اس کی مدد کیوں کی؟ کیوں اس کے لیے ایسے سامان اور اسباب پیدا کر دیئے ؟ کیا یہ سب میں نے خود بنا لیے ہیں اگر اللہ تعالیٰ اسی طرح پر کسی مفتری کی تائید کیا کرتا ہے تو پھر راست بازوں کی سچائی کا معیار کیا ہے؟ تم خود ہی اس کا جواب دو۔ سورج اور چاند کورمضان میں گرہن لگنا کیا یہ میری اپنی طاقت میں تھا کہ میں اپنے وقت میں کر لیتا اور جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سچے مہدی کا نشان قرار دیا تھا اور خدا تعالیٰ نے اس نشان کو میرے دعوے کے وقت پورا کر دیا اگر میں اس کی طرف سے نہیں تھا تو کیا خدا تعالیٰ نے خود دنیا کو گمراہ کیا ؟ اس کا سوچ کر جواب دینا چاہیے کہ میرے انکار کا اثر کہاں تک پڑتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب اور پھر خدا تعالیٰ کی تکذیب لازم آتی ہے۔ اسی طرح پر اس قدر نشانات ہیں کہ ان کی تعداد دو چار نہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں تک ہے تم کس کس کا انکار کرتے جاؤ گے؟ اسی براہین میں یہ بھی لکھا ہے يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ اب تم خود آئے ہو تم نے ایک نشان پورا کیا ہے اس کا بھی انکار کرو اگر اس نشان کو جو تم نے اپنے آنے سے پورا کیا ہے مٹا سکتے ہو تو مٹاؤ۔ میں پھر کہتا ہوں کہ دیکھو آیات اللہ کی تکذیب اچھی نہیں ہوتی اس سے خدا تعالیٰ کا غضب بھڑکتا ہے میرے دل میں جو کچھ تھا میں نے کہہ دیا ہے اب ماننا نہ ماننا تمہارا اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں صادق ہوں اور اسی کی طرف سے آیا ہوں ۔ او ۲ رمتی ۱۹۰۴ء ایک رئیس کا یہ خیال سن کر کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ کہ دعا سے دعاہی خداشناسی کا ذریعہ ہے مشکل حل ہوتی ہے ان کو بہت ہی ہے کردا آپ نے فرمایا کہ کمزور کرنے والا ہے۔ جو دعا سے منکر ہے وہ خدا سے منکر ہے صرف ایک دعا ہی ذریعہ خدا شناسی کا ہے۔ اور اب وقت الحکم جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۴ صفحه ۲