ملفوظات (جلد 6) — Page 153
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۳ جلد ششم بکری بھی منہ مار کر اسے کھا سکتی ہے پھر اگر وہ اس سے بچے تو مختلف قسم کی آندھیاں اس پر چلتی ہیں اور اس کو اکھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اگر وہ ان میں بھی بیچ رہے تو پھر کہیں جا کر اسے پھول لگتے ہیں اور پھر وہ پھول بھی ہوا سے گرتے ہیں اور کچھ بچتے ہیں آخر الامر پھل لگتا ہے اور اس پر بھی بہت سی آفتیں آتی ہیں کچھ یونہی گر جاتے ہیں اور کچھ آندھیوں میں تباہ ہوتے ہیں جو پکتے ہیں اور کھانے کے کام آتے ہیں ۔ اسی طرح پر ایمانی درخت کا حال ہے اس سے پھل کھانے کے لیے بھی بہت سی صعوبتیں اور مشکلات میں ثابت قدم رہنا ضروری ہے۔ صوفی بھی اسی لیے کہتے ہیں کہ جب تک موت نہ آوے زندگی حاصل نہیں۔ نہیں ہوتی ۔ قرآن شریف نے صحابہؓ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے مِنْهُم مَّنْ قَضى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّنْ يَنْتَظِرُ (الاحزاب: ۲۴) یعنی بعض صحابہ میں سے ایسے ہیں جو اپنی جان دے رض چکے ہیں اور بعض ابھی منتظر ہیں ۔ جب تک اس مقام پر انسان نہیں پہنچتا با مراد نہیں ہو سکتا۔ دو قسم کے آدمی در اصل جان سلامت لے جاتے ہیں ایک وہ جو دین العجائز رکھتے ہیں یعنی جیسے ایک بڑھیا عورت ایمان لاتی ہے کہ اللہ ایک محمد برحق ہے وہ اسرار شریعت کی تہہ تک پہنچنے کی ضرورت نہیں سمجھتی ہے۔ اور ایک وہ لوگ ہوتے ہیں جو سلوک کی راہ اختیار کرتے ہیں بڑے بڑے خونخوار دشت و بیابان ان کی راہ میں آتے ہیں مگر وہ ہزاروں موتیں برداشت کر کے پہنچ جاتا ہے اس کی جوانمردی اور ہمت قابل تعریف ہے۔ لیکن ایک اور گروہ ہوتا ہے جو نہ تو دین العجائز اختیار کرتا ہے اور نہ اس راہ کو اختیار کر کے انجام تک پہنچاتا ہے بلکہ اس دشت خونخوار میں پڑ کر راستہ ہی میں ہلاک ہو گیا۔ ایسے لوگ وہی ہوتے ہیں جو مگر اللہ کے نیچے آ جاتے ہیں غرض اس راہ کا طے کرنا بہت ہی مشکل ہے اس کے لیے چاہیے کہ دعا میں مشغول ہوا اور قرآن شریف کو پڑھ کر دیکھتے رہو کہ آیا اس کے حکموں پر چلتے ہو یا نہیں۔ جس حکم پر نہیں چلتے اس پر چلنے کے لیے مجاہدہ کرو اور خدا تعالیٰ سے دعا مانگو کہ اللہ تعالی توفیق دے۔ الحکم میں آگے یہ الفاظ ہیں۔ ” کچھ جانور کھا جاتے ہیں آخر تھوڑے ہوتے ہیں جو پکتے ہیں ۔“ دو الحکم جلد ۸ نمبر ۱۶ مورخہ ۷ ۱ رمتی ۱۹۰۴ صفحه ۱)