ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 152

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۲ جلد ہور ہیں اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا وہ تو فرماتا ہے لَيْسَ لِلإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (النجم : ۴۰) اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی راہ میں وہ مجاہدہ کرے اور وہ کام کر کے دکھلاوے جو کسی نے نہ کیا ہو اگر اللہ تعالیٰ صبح سے شام تک مکالمہ کرے تو یہ فخر کی بات نہیں ہوگی کیونکہ یہ تو اس کی عطا ہوگی ۔ دھیان یہ ہوگا کہ خود ہم نے اس کے لیے کیا کیا؟ بلعم کتنا بڑا آدمی تھا مستجاب الدعوات تھا اس کو بھی الہام ہوتا تھا لیکن انجام کیسا خراب ہوا اللہ تعالیٰ اسے کتے کی مثال دیتا ہے اس لیے انجام کے نیک ہونے کے لیے مجاہدہ اور دعا کرنی چاہیے اور ہر وقت لرزاں ترساں رہنا چاہیے۔ مومن کو اعتقاد صحیح رکھنا اور اعمال صالحہ کرنے چاہئیں اور اس کی ہمت اور سعی اللہ تعالیٰ کی رضا اور وفاداری میں صرف ہونی چاہیے۔ مومن کی صحیح رویا کی تعبیر یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق ہو اس کے اوامر نواہی اور وصایا میں پورا اترے اور ہر مصیبت وابتلا میں صادق مخلص ثابت ہو۔ یا درکھو ابتلا بھی دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ ایک ابتلا شریعت کے اوامر و نواہی کا ہوتا ہے دوسرا ابتلا قضا و قدر کا ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ ۔۔۔۔ الآية (البقرة : ۱۵۶) پس اصل مرد میدان اور کامل وہ ہوتا ہے جو ان دونوں قسم کی ابتلاؤں میں پورا اترے بعض اس قسم کے ہوتے ہیں کہ اوامر و نواہی کی رعایت کرتے ہیں لیکن جب کوئی ابتلا مصیبت قضا و قدر کا پیش آتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکوہ کرتے ہیں۔ ایسا ہی بعض فقیر دیکھے گئے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمیں نفس کشی کی اس قدر مشق ہے کہ سارے دن میں صرف ایک مرتبہ سانس لیتے ہیں لیکن وہ ابتلا کے وقت بہت ہی بودے اور کمزور ثابت ہوتے ہیں۔ قوی وہی ہے جو اعتقاد صحیح رکھتا ہو۔ اعمال صالحہ کرنے والا ہو اور مصائب و شدائد میں پورا اتر نے والا ہو اور یہی جوانمردی ہے جب تک عبودیت میں پورا اور کامل نہیں رویا یا الہامات پر اس کا فخر بے جاہے کیونکہ اس میں اپنی کوئی خوبی نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اور اس امر میں کامیابی کے لیے ایک زمانہ دراز چاہیے جلدی کبھی نہیں کرنی چاہیے جیسے کوئی شخص درخت لگاتا ہے تو پہلے اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ ایک