ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 154 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 154

ملفوظات حضرت مسیح موعود اولد جلد ششم غرض اعمالِ صالحہ بڑی چیز ہے۔ قرآن شریف کو دیکھ لو جہاں ایمان کا ذکر کیا ہے اسے اعمالِ صالحہ او سے وابستہ کیا ہے اس میں متوجہ ہو کہ خدا تعالیٰ راضی ہو جاوے جب تک یہ بات نہ ہو کچھ نہیں ۔ اے ۲۹ را پریل ۱۹۰۴ء (بوقت شام) الطَّرِيقَةُ كُلُّهَا اَدب ایک شخص نو مسلم چکڑالوی کے خیالات کا متبع آیا ہوا تھا اس نے نشان دیکھنا چاہا حضرت حجۃ اللہ علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے سوال کو طریق ادب و طالب کے خلاف پا کر اسے حکم دیا تھا کہ تم واپس چلے جاؤ اس پر اس نے ایک معافی نامہ پیش کیا اس پر حضرت حجۃ اللہ نے فرمایا۔ یہ بات محض اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے کہ کوئی بات کسی کو سمجھا دے لیکن اسے سمجھ دیتا ہے جو ادب کے طریق پر سچا طالب ہو کر تلاش کرتا ہے الطَّرِيقَةُ كُلُّهَا اَدب ۔ خدا تعالیٰ کا یہ سچا وعدہ ہے کہ جو شخص صدق دل اور نیک نیتی کے ساتھ اس کی راہ کی تلاش کرتے ہیں وہ ان پر ہدایت و معرفت کی راہیں کھول دیتا ہے جیسا کہ اس نے خود فرمایا ہے وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت : ٧٠) یعنی جو لوگ ہم میں ہو کر مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان پر اپنی راہیں کھول دیتے ہیں ہم میں ہوکر سے یہ مراد ہے کہ محض اخلاص اور نیک نیتی کی بنا پر خدا جوئی اپنا مقصد رکھ کر لیکن اگر کوئی استہزا اور ٹھٹھے کے طریق پر آزمائش کرتا ہے وہ بد نصیب محروم رہ جاتا ہے پس اسی پاک اصول کی بنا پر اگر تم سچے دل سے کوشش کرو اور دعا کرتے رہو تو وہ غفور الرحیم ہے لیکن اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی پروا نہیں کرتا وہ بے نیاز ہے۔ صبر و استقلال کی ضرورت دنیا فنا کا مقام ہے اس لیے ضروری ہے کہ انسان اس فانی مقام پر دلدادہ نہ ہو بلکہ آخرت کی فکر کرے جو ابدی ہے اور یہ اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لاوے اور اس کی مرضی کو مقدم کر کے اس پر چلے اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی کو مقدم نہیں کرتا اور اس پر نہیں چلتا تو پھر اللہ تعالیٰ اس کی کوئی پروا نہیں کرتا جیسے البدر جلد ۳ نمبر ۱۸ ، ۱۹ مورخه ۱۶،۸ رمتی ۱۹۰۴ء صفحه ۱۰