ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 151

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۱ جلد ششم بلکہ اعمال صالحہ میں لگے رہو بہت سے الہامات اور خواب سنیر و پھل کی طرح ہوتے ہیں جو کچھ دنوں کے بعد گر جاتے ہیں اور پھر کچھ باقی نہیں رہتا ہے۔ اصل مقصد اور غرض اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا اور بے ریا تعلق ، اخلاص اور وفاداری ہے جو نرے خوابوں سے پوری نہیں ہو سکتی مگر اللہ سے کبھی بے خوف نہیں ہونا چاہیے جہاں تک ہو سکے صدق و اخلاص و ترک ریا و ترک منہیات میں ترقی کرنی چاہیے اور مطالعہ کرتے رہو کہ ان باتوں پر کس حد تک قائم ہو اگر یہ باتیں نہیں ہیں تو پھر خوابات اور الہامات بھی کچھ فائدہ نہیں دیں گے۔ بلکہ صوفیوں نے لکھا ہے کہ اوائل سلوک میں جو ر و یا یا وحی ہو اس پر توجہ نہیں کرنی چاہیے وہ اکثر اوقات اس راہ میں روک ہو جاتی ہے انسان کی اپنی خوبی اس میں تو کوئی نہیں کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فعل ہے جو وہ کسی کو کوئی اچھی خواب دکھاوے یا کوئی الہام کرے۔ اس نے کیا کیا؟ دیکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہت وحی ہوا کرتی تھی لیکن اس کا کہیں ذکر بھی نہیں کیا گیا کہ اس کو یہ الہام ہوا یہ وحی ہوئی بلکہ ذکر ا گر کیا ہے تو اس بات کا کہ اِبْراهِيمَ الَّذِي وَفي (النجم : ۳۸) وہ ابراہیم جس نے وفاداری کا کامل نمونہ دکھایا۔ یا یہ کہ یا براهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ( الصفت : ۱۰۶،۱۰۵) یہ بات ہے جو انسان کو حاصل کرنی چاہیے اگر یہ پیدا نہ ہو تو پھر رؤیا والہام سے کیا فائدہ؟ مومن کی نظر ہمیشہ اعمال صالحہ پر ہوتی ہے اگر اعمالِ صالحہ پر نظر نہ ہو تو اندیشہ ہے کہ وہ مگر اللہ کے نیچے آجائے گا۔ ہم کو تو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کریں اور اس کے لیے ضرورت ہے اخلاص کی ، صدق و وفا کی ، نہ یہ کہ قیل و قال تک ہی ہماری ہمت و کوشش محدود ہو جب ہم اللہ تعالیٰ کو راضی کرتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ بھی برکت دیتا ہے اور اپنے فیوض و برکات کے دروازے کھول دیتا ہے اور رویا اور وحی کو القاء شیطانی سے پاک کر دیتا ہے اور اضغاث احلام سے بچا لیتا ہے پس اس بات کو کبھی بھولنا نہیں چاہیے کہ رؤیا اور الہام پر مدار صلاحیت نہیں کرنا چاہیے۔ بہت سے آدمی دیکھے گئے ہیں کہ ان کو ر دیا اور الہام ہوتے رہے لیکن انجام اچھا نہیں ہوا جو اعمالِ صالحہ کی صلاحیت پر موقوف ہے۔ اس تنگ دروازہ سے جو صدق و وفا کا دروازہ ہے گذرنا آسان نہیں۔ ہم کبھی ان باتوں سے فخر نہیں کر سکتے کہ رؤیا یا الہام ہونے لگے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ رہیں اور مجاہدات سے دستکش