ملفوظات (جلد 6) — Page 132
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۲ جلد جو کہ برائے نام تو مسلمان ہیں لیکن اصل میں دشمنِ اسلام ہیں خود ان کا قول تھا کہ مسیح اور مہدی چودہویں صدی کے سر پر ہو گا وہ پورا ہو گیا پھر طاعون بھی نشان تھا وہ بھی پورا ہو گیا نئی سواری جسے ریل کہتے ہیں یہ بھی نشانی تھی جو کہ چلتی دیکھتے ہو۔ سورج اور چاند کا گرہن بھی ماہ رمضان میں ہو گیا۔ ایک بڑی بدعت جس کی مثال جانوروں میں سے ہاتھی کی مثال ہے یہ پڑ گئی تھی کہ نصاری کا زور ہو گیا اور اسلام پر حملے شروع ہوئے ۳۰ لاکھ سے زیادہ مسلمان مرتد ہو چکے۔ کیا یہ ممکن تھا کہ اسلام کے قادر مطلق خدا کو چھوڑ کر ایک عاجز انسان اور پھر میت کو خدا مانا جاوے۔ کیا کسی کی عقل و فکر میں یہ بات آسکتی تھی مگر تا ہم لوگ اس دھوکا میں آگئے ۔ اس کا باعث عیسائیوں کی شرارت ہی نہیں بلکہ مسلمانوں نے بھی ایک بڑا حصہ اس کا اس طرح سے لیا ہوا ہے کہ مسیح کو تو آسمان پر زندہ مانا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو زیر زمین دفن شدہ تسلیم کیا اور اس طرح سے ہر ایک پہلو اور بات میں یہ خود عیسائیوں کی مدد کر رہے ہیں اور ان کا ایک دست بازو بنے ہوئے ہیں۔ اول تو قرآن شریف کے بر خلاف ایک بات کرتے ہیں اور پھر وہ بات جس سے عیسائیوں کو تقویت ہو قرآن شریف پیش کرتے ہیں کہ اس میں اس کا آسمان پر اٹھایا جانا لکھا ہے حالانکہ قرآن شریف تو بڑے زور سے اس کی وفات ثابت کرتا ہے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمُ (المائدة: ۱۱۸ ) اور قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (ال عمران: ۱۴۵) اور اَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَانًا (المرسلات: ۲۶) وغیرہ بہت سی آیات ہیں جن سے وفات ثابت ہوتی ہے پھر کمبخت نادان ایک اور بات کہتے ہیں کہ صرف مسیح اور اس کی ماں میں شیطان سے پاک ہیں۔ یہ اصل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینی ہے کہ ایک بنی اسرائیل کی عورت مریم تو میں شیطان سے پاک ہو اور نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پاک نہ ہوں اگر یہ لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں ہوتے اور یہ بات کہتے تو پھر دیکھتے کہ اس بے ادبی کی کیا سزا پاتے۔ اصل بات یہ ہے کہ مسیح اور مریم کو میں شیطان سے پاک قرار دینے کی وجہ حضرت مسیح اور ان کی