ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 133

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۳ جلد ماں مریم پر یہود کا اعتراض تھا ۔ مسیح کو وہ لوگ نا جائز ولادت کا الزام لگاتے اور مریم کو زانیہ کہتے تھے قرآن شریف کا کام ہے کہ انبیاء پر سے اعتراضات کو رفع کرے اس لیے اس نے مریم کے حق میں زانیہ کے بجائے صدیقہ کا لفظ رکھا اور مسیح کو میں شیطان سے پاک کہا اگر ایک محلہ میں صرف ایک عورت کا تبریہ کیا جاوے اور اس کی نسبت کہا جاوے کہ وہ بدکار نہیں ہے تو اس سے یہ التزام لازم نہیں آتا کہ باقی کی سب ضرور بدکار ہیں صرف یہ معنے ہوتے ہیں کہ اس پر جو الزام ہے وہ غلط ہے یا اگر ایک آدمی کو کہا جاوے کہ وہ بھلا مانس ہے تو اس کے یہ معنے ہرگز نہیں ہوتے کہ باقی کے سب لوگ بھلے مانس نہیں بلکہ بدکار ہیں ۔ اسی طرح یہ ایک مقدمہ تھا کہ مسیح اور اس کی ماں پر الزام لگائے گئے تھے خدا نے شہادت دی کہ وہ الزاموں سے بری اور پاک ہیں۔ کیا عدالت اگر ایک ملزم کو قتل کے مقدمہ میں بری کر دے تو اس سے یہ لازم آوے گا کہ باقی کے سب لوگ اس شہر کے ضرور قاتل اور خونخوار ہیں غرضیکہ اس قسم کی بدعات اور فساد پھیلے ہوئے تھے جن کے دور کرنے کے لیے خدا نے ہمیں مبعوث کیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ تقویٰ ، طہارت، خدا کی طرف رجوع، خدا کی محبت اور ہر بدکاری کے وقت اس کے خوف اور عظمت کو مد نظر رکھ کر کنارہ کش ہونا یہ باتیں اٹھ گئی تھیں اور اسلام صرف برائے نام رہ گیا تھا۔ اب خدا نے چاہا ہے کہ سچی پاکیزگی حاصل ہو۔ اسلام کے دو حصہ ہیں ایک تو یہ کہ خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا عقائد کا اثر اعمال پر جاوے اور اس کے احسانوں کے بدلے میں اس کی پوری اطاعت کی جاوے ورنہ خدا تعالیٰ جیسے حسن ومربی سے جو روگردانی کرتا ہے وہ شیطان ہے۔ دوسرا حصہ یہ ہے کہ مخلوق کے حقوق شناخت کرے اور کما حقہ اس کو بجالا وے جن قوموں نے موٹے موٹے گناہ جیسے زنا، چوری، غیبت ، جھوٹ وغیرہ اختیار کئے آخر وہ ہلاک ہو گئیں اور بعض قو میں صرف ایک ایک گناہ کے ارتکاب سے ہلاک ہوتی رہیں مگر چونکہ یہ امت مرحومہ ہے اس لیے خدا تعالیٰ اسے ہلاک نہیں کرتا اور نہ کوئی معصیت ایسی نہیں ہے جو یہ نہیں کرتے بالکل ہندوؤں کی طرح ہو گئے ہیں ہر ایک نے الگ معبود بنا لیے ہیں عیسیٰ کو مثل خدا کے حی و قیوم مانا جاتا ہے