ملفوظات (جلد 6) — Page 131
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۱ جلد شش دیکھ سکتیں جب تک روشنی نہ ہوا اور کان نہیں سن سکتے جب تک ہوانہ ہو پس اس سے سمجھنا چاہیے کہ جو کچھ دیا گیا ہے جب تک آسمانی تائید اس کے ساتھ نہ ہو تب تک تم محض بے کار ہو۔ ایک بات کو تم کتنے ہی صدق دل سے قبول کرو مگر جب تک فضل الہی شامل حال نہیں تم اس پر قائم نہیں رہ سکتے ۔ بیعت تو بہ اور بیعت تسلیم جو تم نے آج کی ہے اور اس میں جو اقرار کیا ہے اسے سچے احمدیت دل سے بہت مضبوط پکڑ اور پختہ عہد کرو کہ مر۔ دل سے بہت مضبوط پکڑو اور پختہ عہد کرو کہ مرتے دم تک تم اس پر قائم رہو گے سمجھ لو کہ آج ہم نفس کی خودرویوں سے باہر آگئے ہیں اور جو جو ہدایت ہو گی اس پر عمل کرتے رہیں گے۔ ہم کوئی نئی ہدایت یا نیا دین یا نیا عمل نہیں لائے ہدایت بھی وہی ہے دین بھی وہی ہے عمل بھی وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دے گئے ہیں کوئی نیا کلمہ تم کو تلقین نہیں کیا جاتا اور نہ کوئی نیا خاتم النبیین بنایا جاتا ہے ہاں اس پر سوال ہوتا ہے کہ جب نئی بات کوئی نہیں تو پھر فرق کیا ہوا اور ایک جماعت کیوں طیار ہو رہی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا نے جو ارادہ کیا تھا کہ وہ ایک مسیح موعود بنا کر بھیجے گا اور وہ اس وقت آوے گا جب کہ دنیا سخت تاریکی میں ہوگی ہر طرف سے کفر کے حملے ہوں گے اسلام کو ہر ایک پہلو سے نقصان پہنچانے کی کوشش ہوگی تو اس کے آنے کے دو فائدے ہوں گے۔ ایک فائدہ تو یہ ہے کہ یہ ایک ایسا زمانہ ہے کہ اسلام بدعات سے پورا حصہ لے چکا ہے ہر ایک بدعت ( تیسری صدی (ہجری) سے شروع ہو کر چودھویں صدی تک کمال کو پہنچ گئی اور پوری دجالی صورت پیدا ہو گئی ہے۔ حدیثیں بلند آواز سے اس زمانہ کی نسبت خبر دے رہی ہیں جیسے ایک حمل کی مدت نو ماہ ہوتی ہے اس مناسبت سے تیسری صدی کے بعد جیسے نوصد سال گذر گئے تو خدا نے ایک مامور کو مبعوث کیا کہ ان بدعات اور مفاسد کو دور کرے کیونکہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کے مطابق لَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمْ کے مصداق ہو گئے تھے اور اسلام کا صرف نام ہی نام ان کی زبانوں پر رہ گیا تھا جیسے ایک باغ کے عمدہ عمدہ بوٹوں کو دوسرے خراب بوٹے اور گھاس وغیرہ پیدا ہو کر دبا لیتے ہیں ایسے ہی رڈی گھاس اور بوٹے اسلام کے باغ میں ہو گئے تھے اور اس کا حقیقی نشود نما اور آب و تاب بالکل جاتی رہی تھی ۔ مگار درویش ، گدی نشین اور فقیر وغیرہ اس رڈی گھاس کی طرح ہیں