ملفوظات (جلد 6) — Page 130
ملفوظات حضرت مسیح موعود دعا کی درخواست کی تھی فرمایا کہ ۱۳۰ استقامت خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے ہم نے دعا کی ہے اور کریں گے لیکن تم بھی خدا تعالیٰ سے استقامت کی توفیق طلب کرو۔ استقامت کے یہ معنے ہیں کہ جو عہد انسان نے کیا ہے اسے پورے طور پر نبھاوے یا درکھو کہ عہد کرنا آسان ہے مگر اس کا نبھانا مشکل ہے۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ باغ میں تخم ڈالنا آسان مگر اس کے نشوونما کے لیے ہر ایک ضروری بات کو ملحوظ رکھنا اور آبپاشی کے اوقات پر اس کی خبر گیری کرنی مشکل ہے۔ ایمان بھی ایک پودا ہے جسے اخلاص کی زمین میں بویا جاتا ہے اور نیک اعمال سے اس کی آبپاشی کی جاتی ہے اگر اس کی ہر وقت اور موسم کے لحاظ سے پوری خبر گیری نہ کی جاوے تو آخر کار تباہ اور برباد ہو جاتا ہے۔ دیکھو باغ میں کیسے ہی عمدہ پودے تم لگاؤ لیکن اگر لگا کر بھول جاؤ اور اسے وقت پر پانی نہ دو یا اس کے گرد باڑ نہ لگاؤ تو آخر کار نتیجہ یہی ہوگا کہ یا تو وہ خشک ہو جاویں گے یا ان کو چور لے جاویں گے۔ ایمان کا پودا اپنے نشوونما کے لیے اعمالِ صالحہ کو چاہتا ہے اور قرآن شریف نے جہاں ایمان کا ذکر کیا ہے وہاں اعمالِ صالحہ کی شرط لگا دی ہے کیونکہ جب ایمان میں فساد ہوتا ہے تو وہ ہرگز عند اللہ قبولیت کے قابل نہیں ہوتا جیسے غذا جب باسی ہو یا سڑ جاوے تو اسے کوئی پسند نہیں کرتا اسی طرح ریا ، جب تکبر ایسی باتیں ہیں کہ اعمال کو قبولیت کے قابل نہیں رہنے دیتیں کیونکہ اگر اعمال نیک سرزد ہوئے ہیں تو وہ بندے کے اپنی طرف سے نہیں بلکہ خاص خدا کے فضل سے ہوئے ہیں۔ پھر اس میں اس کا کیا تعلق کہ وہ دوسروں کو خوش کرنے کے لیے ان کو ذریعہ ٹھہراتا ہے یا اپنے نفس میں خود ہی ان سے کبر کرتا ہے جس کا نام عُجب ہے خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء : ۲۹) یعنی انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے اور اس میں بذات خود کوئی قوت اور طاقت نہیں ہے جب تک خدا تعالیٰ خود نہ عطا فرماوے اگر آنکھیں ہیں اور تم ان سے دیکھتے ہو یا کان ہیں اور تم ان سے سنتے ہو یا زبان ہے اور تم اس سے بولتے ہو تو یہ سب خدا کا فضل ہے کہ یہ سب قوئی اپنا اپنا کام کر رہے ہیں وگرنہ اکثر لوگ مادر زاد اندھے یا بہرے یا گونگے پیدا ہوتے ہیں بعض بعد پیدائش کے دوسرے حوادثات سے ان نعمتوں سے محروم ہو جاتے ہیں مگر تمہاری آنکھیں بھی نہیں