ملفوظات (جلد 6) — Page 124
ملفوظات حضرت مسیح موعود ادا کرتی ہے اور وہ یہ ہے ۱۲۴ جو منگے سو مر رہے مرے سومنگن جا یعنی جو مانگنا چاہتا ہے اس کو ضروری ہے کہ ایک موت اپنے اوپر وارد کرے اور مانگنے کا حق اسی کا ہے جو اول اس موت کو حاصل کرلے حقیقت میں اسی موت کے نیچے دعا کی حقیقت ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ دعا کے اندر قبولیت کا اثر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ انتہائی درجہ کے اضطرار تک پہنچ جاتی ہے جب انتہائی درجہ اضطرار کا پیدا ہو جاتا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی قبولیت کے آثار اور سامان بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ پہلے سامان آسمان پر کئے جاتے ہیں اس کے بعد وہ زمین پر اثر دکھاتے ہیں۔ یہ چھوٹی سی بات نہیں بلکہ ایک عظیم الشان حقیقت ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جس کو خدائی کا جلوہ دیکھنا ہو اسے چاہیے کہ دعا کرے۔ ان کے آنکھوں سے وہ نظر نہیں آتا بلکہ دعا کی آنکھوں سے نظر آتا ہے کیونکہ اگر دعا کے قبول کرنے والے کا پتا نہ لگے تو جیسے لکڑی کو گھن لگ کر وہ نکلتی ہو جاتی ہے ویسے ہی انسان پکار پکار کر تھک کر آخر دہر یہ ہو جاتا ہے ایسی دعا چاہیے کہ اس کے ذریعہ ثابت ہو جاوے کہ اس کی ہستی برحق ہے جب اس کو یہ پتا لگ جاوے گا تو اس وقت وہ اصل میں صاف ہو گا یہ بات اگر چہ بہت مشکل نظر آتی ہے لیکن اصل میں مشکل بھی نہیں ہے بشرطیکہ تدبیر اور دعا دونوں سے کام لیوے جیسے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحة :۵) کے معنوں میں ابھی تھوڑے دن ہوئے ) بتلایا گیا ہے۔ نماز پوری ھو، صدقہ اور خیرات دو تو دو تو پوری نیت سے دو کہ خدا راضی ہو جاوے اور توفیق طلب کرتے رہو کہ ریا کاری ، محجب وغیرہ زہریلے اثر جس سے ثواب اور اجر باطل ہوتا ہے دور ہو جاویں اور دل اخلاص سے بھر جاوے۔ خدا پر بدطنی نہ کرو وہ تمہارے لیے ان کاموں کو آسان کر سکتا ہے وہ رحیم کریم ہے پڑھو، ل الحکم جلد ۸ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۴ صفحہ ۳ تا ۶ ۔ نوٹ ۔ الحکم کے اس پر چہ میں بھی غلطی سے ۲۴ را پریل کی تاریخ درج ہے جو دراصل ۷ ۱ را پریل ہے۔ (مرتب) کے یہ مضمون جو گذشتہ مضمون کے تسلسل میں ہے البدر سے لیا گیا ہے کیونکہ الحکم میں درج ہونے سے رہ گیا ہے۔ (مرتب)