ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 123 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 123

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۳ جلد ششم ہزاروں خرابیاں خود بخود دور ہونے لگتی ہیں اور جب اندر پاکیزگی اور طہارت پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا ہو جا تا۔ را ہو جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ خود بخود اس کا متکفل اور متولی ہوتا ہے اور اس سے پہلے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنی کسی حاجت کو مانگے اللہ تعالیٰ خود اس کو پورا کر دیتا ہے۔ یہ ایک بار یک سر ہے جو اس وقت کھلتا ہے جب انسان اس مقام پر پہنچتا ہے اس سے پہلے اس کی سمجھ میں آنا بھی مشکل ہوتا ہے لیکن یہ ایک عظیم الشان مجاہدہ کا کام ہے کیونکہ دعا بھی ایک مجاہدہ کو چاہتی ہے جو شخص دعا سے لا پروائی کرتا ہے اور اس سے دور رہتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی پروا نہیں کرتا اور اس سے دور ہو جاتا ہے۔ جلدی اور شتاب کاری یہاں کام نہیں دیتی خدا تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے جو چاہے عطا کرے اور جب چاہے عنایت فرمائے ۔ سائل کا کام نہیں ہے کہ وہ فی الفور عطا نہ کئے جانے پر شکایت کرے اور بدظنی کرے بلکہ استقلال اور صبر سے مانگتا چلا جاوے۔ دنیا میں بھی دیکھو کہ جو فقیر اڑ کر مانگتے ہیں اور خواہ اس کو کتنی ہی جھڑکیاں دو اور جتنا چاہو گھر کو مگر وہ مانگتے چلے جاتے ہیں اور اپنے مقام سے نہیں ہٹتے یہاں تک کہ کچھ نہ کچھ لے ہی مرتے ہیں اور بخیل سے بخیل آدمی بھی ان کو کچھ نہ کچھ دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پر انسان جب اللہ تعالی کے حضور گڑ گڑاتا ہے اور بار بار مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ تو کریم رحیم ہے وہ کیوں نہ دے؟ دیتا ہے اور ضرور دیتا ہے مگر مانگنے والا بھی ہو۔ انسان اپنی شتاب کاری اور جلد بازی کی وجہ سے محروم ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ بالکل سچا ہے ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم (المؤمن : ۶۱ ) پس تم اس سے مانگو اور پھر مانگو اور پھر مانگو جو مانگتے ہیں ان کو دیا جاتا ہے ہاں یہ ضروری ہے کہ دعا ہونری بک بک نہ ہو اور زبان کی لاف زنی اور چرب زبانی ہی نہ ہو۔ ایسے لوگ جنہوں نے دعا کے لیے استقامت اور استقلال سے کام نہیں لیا اور آداب دعا کو ملحوظ نہیں رکھا جب ان کو کچھ ہاتھ نہ آیا تو آخر وہ دعا اور اس کے اثر سے منکر ہو گئے اور پھر رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ سے بھی منکر ہو بیٹھے کہ اگر خدا ہوتا تو ہماری دعا کو کیوں نہ سنتا۔ ان احمقوں کو اتنا معلوم نہیں کہ خدا تو ہے مگر تمہاری دعائیں بھی دعائیں ہوتیں پنجابی زبان میں ایک ضرب المثل ہے جو دعا کے مضمون کو خوب