ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 125

با<mark>کر</mark>یماں کار ہا دشوارنیست۔اگر پیچھے لگے رہو گے تو <mark>اس</mark>ے رحم آہی <mark>جا</mark>وے گا۔<mark>خدا</mark> یابی سے محروم رہنے کے <mark>اس</mark>باب بہت لوگ ہیں کہ سیدھی نیت سے طلب نہیں <mark>کر</mark>تے تھوڑا طلب <mark>کر</mark>کے تھک <mark>جا</mark>تے ہیں۔دیکھو اگر ایک زمین میں چالیس ہاتھ کھو دنے سے پانی نکلتا ہے تو تین چار ہاتھ کھود <mark>کر</mark> <mark>جو</mark> شکایت <mark>کر</mark>ے کہ پانی نہیں نکلا <mark>اس</mark>ے تم کیا کہو گے <mark>اس</mark> قسم کے بد قسمت انسان ہوتے ہیں کہ وہ دو چار دن دعا <mark>کر</mark>کے کہتے ہیں کہ ہمیں پتا کیوں نہ لگا اور <mark>اس</mark> طرح ایک <mark>دنیا</mark> گمراہ ہو گئی ہے وظیفہ اور م<mark>جا</mark>ہدے <mark>کر</mark>تے رہے مگر جس حد تک کھودنے سے پانی نکلنا تھا <mark>اس</mark> حد تک نہ کھو دایعنی نہ پہنچے تو <mark>خدا</mark> کی ذات سے من<mark>کر</mark> ہو گئے اور <mark>آخر</mark> کار خلقت کا ر<mark>جو</mark>ع <mark>اپنی</mark> طرف دیکھ <mark>کر</mark> ٹھگ بن گئے <mark>اس</mark> کا باعث یہ ہوا کہ <mark>خدا</mark> تعالیٰ کی طرف جس رفتار سے چلنا چاہیے تھا <mark>اس</mark> رفتار سے نہ چلے اور <mark>اس</mark> کے عطا <mark>کر</mark>دہ دوسرے قویٰ اور اعضا سے کام نہ لیا اور طوطے کی طرح وظیفوں پر زور لگاتے رہے <mark>آخر</mark> کار لعنتی ہو گئے۔؎ گر نہ باشد بدوست راہ بردن شرط عشق <mark>اس</mark>ت در طلب مُردن <mark>اس</mark> کے یہ معنے ہیں کہ <mark>اس</mark> کی راہ پر چلا <mark>جا</mark>وے یہاں تک کہ مَر <mark>جا</mark>وے وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ( الـحجر:۱۰۰) کے یہی معنے ہیں وہ موت جب آتی ہے تو ساتھ ہی یقین بھی آ <mark>جا</mark>تا ہے موت اور یقین ایک ہی بات ہے۔غرض کہ <mark>اس</mark> کمزوری اور کسل نے لوگوں کو <mark>خدا</mark> یابی سے محروم <mark>کر</mark> دیا ہے کہ پورا حق <mark>تلا</mark>ش کا ادا نہ کیا۔ر<mark>اس</mark>تہ میں چھلکا مل گیا <mark><mark>اس</mark>ی</mark> پر راضی ہو گئے اور دو کانداربن گئے۔ر<mark>اس</mark>ت بازوں کے لب<mark>اس</mark> <mark>اطاعت</mark>، <mark>عبادت</mark>، خدمت میں اگر صبرسے کام لو تو <mark>خدا</mark> کبھی ضائع نہ <mark>کر</mark>ے گا <mark>اس</mark>لام میں ہزاروں ہوئے ہیں کہ لوگوں نے صرف ان کے <mark>نور</mark> سے ان کو شناخت کیا ہے ان کو مکاروں کی طرح بھگوے کپڑے یا لمبے چو غے اور خاص خاص متمیّز <mark>کر</mark>نے والے لب<mark>اس</mark> کی ضرورت نہیں ہے اور نہ <mark>خدا</mark> کے ر<mark>اس</mark>ت بازوں نے ایسی وردیاں پہنی ہیں۔پیغمبر <mark>خدا</mark> صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی خاص ایسا لب<mark>اس</mark> نہ تھا جس سے آپ لوگوں میں متمیّز ہوسکتے بلکہ ایک دفعہ ایک شخص نے ابوب<mark>کر</mark>ؓ کو پیغمبر <mark>جا</mark>ن <mark>کر</mark> ان سے مصافحہ کیا اور تعظیم وت<mark>کر</mark>یم <mark>کر</mark>نے لگا