ملفوظات (جلد 6) — Page 122
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۲ جلد ششم آتا ہے کیونکہ دعا بھی کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ وہ بھی ایک موت ہی ہے جب اس موت کو انسان قبول کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو مجرمانہ زندگی سے جو موت کا موجب ہے بچا لیتا ہے اور اس کو ایک پاک زندگی عطا کرتا ہے۔ بہت سے سے لوگ دعا کو ایک معمولی چیز سمجھتے ہیں دعا کیا ہے اور کس طرح کرنی چاہے کو یادرکھنا چاے کے راہیں ہیں کہ عملی طور پر 200 سو دعا۔ نماز پڑھ کر ہاتھ اٹھا کر بیٹھ گئے اور جو کچھ آیا منہ سے کہہ دیا اس دعا سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ یہ دعا نری ایک منتر کی طرح ہوتی ہے نہ اس میں دل شریک ہوتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں پر کوئی ایمان ہوتا ہے۔ یا درکھو دعا ایک موت ہے اور جیسے موت کے وقت اضطراب اور بے قراری ہوتی ہے اسی طرح پر دعا کے لیے بھی ویسا ہی اضطراب اور جوش ہونا ضروری ہے اس لیے دعا کے واسطے پورا پورا اضطراب اور گدازش جب تک نہ ہو تو بات نہیں بنتی۔ پس چاہیے کہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر نہایت تضرع اور زاری وابتہال کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور اپنی مشکلات کو پیش کرے اور اس دعا کو اس حد تک پہنچاوے کہ ایک موت کی سی صورت واقع ہو جاوے اس وقت دعا قبولیت کے درجہ تک پہنچتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھو کہ سب سے اول اور ضروری دعا یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو گناہوں سے پاک صاف کرنے کی دعا کرے ساری دعاؤں کا اصل اور جز یہی دعا ہے کیونکہ جب یہ دعا قبول ہو جاوے اور انسان ہر قسم کی گندگیوں اور آلودگیوں سے پاک صاف ہو کر خدا تعالیٰ کی نظر میں مطہر ہو جاوے تو پھر دوسری دعا ئیں جو اس کی حاجات ضروریہ کے متعلق ہوتی ہیں وہ اس کو مانگنی بھی نہیں پڑتی ہیں وہ خود بخود قبول ہوتی چلی جاتی ہیں ۔ بڑی مشقت اور محنت طلب یہی دعا ہے کہ وہ گناہوں سے پاک ہو جاوے اور خدا تعالیٰ کی نظر میں متقی اور راست باز ٹھہرایا جاوے یعنی اول اول جو حجاب انسان کے دل پر ہوتے ہیں ان کا دور ہونا ضروری ہے جب وہ دور ہو گئے تو دوسرے حجابوں کے دور کرنے کے واسطے اس قدر محنت اور مشقت کرنی نہیں پڑے گی کیونکہ خدا تعالیٰ کا فضل اس کے شامل حال ہو کر