ملفوظات (جلد 6) — Page 115
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۵ خدا تعالیٰ اس کی پروا نہیں کرتا بلکہ وہ اس بکری کی طرح ذبح کے لائق ہوتا ہے جو دودھ نہیں دیتی ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ تم اپنے آپ کو مفید ثابت کرو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے بندوں کو نفع پہنچاؤ۔ اعمال صالحہ کی ضرورت انسان سجھتا ہے کہ نرا زبان سے کلمہ پڑھ لیناہی کافی ہے یا نرا اسْتَغْفِرُ الله کہہ دینا ہی کافی ہے مگر یاد رکھو زبانی لاف گزاف کافی نہیں ہے۔ خواہ انسان زبان سے ہزار مرتبہ اَسْتَغْفِرُ اللہ کہے یا سو مرتبہ ہر روز تسبیح پڑھے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ خدا نے انسان کو انسان بنایا ہے طوطا نہیں بنایا۔ یہ طوطا کا کام ہے کہ وہ زبان سے تکرار کرتا رہے اور سمجھے خاک بھی نہیں۔ انسان کا کام تو یہ ہے کہ جو کچھ منہ سے کہتا ہے اس کو سوچ کر کہے اور پھر اس کے موافق عملدرآمد بھی کرے لیکن اگر طوطا کی طرح بولتا جاتا ہے تو یاد رکھو نری زبان سے کوئی برکت نہیں ہے جب تک دل اس کے ساتھ نہ ہو اور اس کے موافق اعمال نہ ہوں وہ نری باتیں سمجھی جائیں گی جن میں کوئی خوبی اور برکت نہیں کیونکہ وہ نرا قول ہے خواہ قرآن شریف اور استغفار ہی کیوں نہ یوں نہ پڑھتا ہو۔ خدا تعالیٰ اعمال چاہتا ہے اس لیے بار بار یہی حکم دیا کہ اعمال صالحہ کرو جب تک یہ نہ ہو خدا کے نزدیک نہیں جا سکتے ۔ بعض نادان کہتے ہیں کہ آج ہم نے دن بھر میں قرآن ختم کر لیا ہے لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ اس سے کیا فائدہ ہوا؟ بری زبان سے تم نے کام لیا۔ مگر باقی اعضا کو بالکل بیکار چھوڑ دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمام اعضا اس لیے بنائے ہیں کہ ان سے کام لیا جاوے یہی وجہ ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ بعض لوگ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور قرآن ان پر لعنت کرتا ہے کیونکہ ان کی تلاوت نرا قول ہی قول ہوتا ہے اور اس پر عمل نہیں ہوتا۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود کے موافق اپنا چال چلن نہیں بنا تا ہے وہ ہنسی کرتا ہے کیونکہ پڑھ لینا ہی اللہ تعالیٰ کا منشا نہیں وہ تو عمل چاہتا ہے اگر کوئی ہر روز تعزیرات ہند کی تلاوت تو کرتا رہے مگر ان قوانین کی پابندی نہ کرے بلکہ ان جرائم کو کرتا رہے اور رشوت وغیرہ لیتا ر ہے تو ایسا شخص جس وقت پکڑا جاوے گا تو کیا اس کا یہ عذر قابل سماعت ہوگا کہ میں ہر روز تعزیرات کو پڑھا کرتا ہوں یا اس کو