ملفوظات (جلد 6) — Page 114
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۴ کرے جب وہ گناہوں سے بچے گا اور خدا کی عبادت کرے گا تو اس کا دل برکت سے بھر جائے گا اور یہی انسان کی زندگی کا مقصد ہے۔ دیکھو اگر کسی کپڑے کو پاخانہ لگا ہوا ہو تو اس کو صرف دھوڈالنا ہی کوئی خوبی نہیں ہے بلکہ اسے چاہیے کہ پہلے اسے خوب صابن سے ہی دھو کر صاف کرے اور میل نکال کر اسے سفید کرے اور پھر اس کو خوشبو لگا کر معطر کرے تا کہ جو کوئی اسے دیکھے خوش ہو اسی طرح پر انسان کے دل کا حال ہے وہ گناہوں کی گندگی سے ناپاک ہو رہا ہے اور گھناؤنا اور متعفن ہو جاتا ہے پس پہلے تو چاہیے کہ گناہ کے چرک کو تو بہ واستغفار سے دھوڈالے اور خدا تعالیٰ سے توفیق مانگے کہ گناہوں سے بچتا رہے پھر اس کی بجائے ذکر الہی کرتا رہے اور اس سے اس کو بھر ڈالے اس طرح پر سلوک کا کمال ہو جاتا ہے اور بغیر اس کے اس کی وہی مثال ہے کہ کپڑے سے صرف گندگی کو دھوڈالا ہے لیکن جب تک یہ حالت نہ ہو کہ دل کو ہر قسم کے اخلاق رڈ یہ ور ذیلہ سے صاف کر کے خدا کی یاد کا عطر لگاوے اور اندر سے خوشبو آ وے اس وقت تک خدا تعالیٰ کا شکوہ نہیں کرنا چاہیے لیکن جب اپنی حالت اس قسم کی بناتا ہے تو پھر شکوہ کا کوئی محل اور مقام ہی نہیں رہتا۔ آج کل وبا کے دن ہیں اس لیے لا پروا نہیں ہونا چاہیے سچی تبدیلی کرنی چاہیے بہت سے آدمی اعتراض کر دیتے ہیں کہ فلاں شخص نے بیعت کی تھی وہ مر گیا مگر یہ اعتراض فضول ہے کیا وہ نہیں جانتے کہ صحابہ بھی جنگوں میں شریک ہو کر شہید ہو جاتے تھے حالانکہ وہی جنگ مخالفوں کے لیے بطور عذاب تھی لیکن اس سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ بیعت کے بعد اعمال کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ بیعت کے بعد حجت پوری ہو جاتی ہے پھر اگر اپنی اصلاح اور تبدیلی نہیں کرتا تو سخت جوابدہ ہے پس ضرورت اس بات کی ہے کہ سچے مسلمان بنوتا کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تمہاری کوئی قدر و قیمت ہو جو چیز کارآمد ہوتی ہے اسی کی قدر کی جاتی ہے۔ دیکھو! اگر تمہارے پاس ایک دودھ دینے والی بکری ہو جس سے تمہارے بیوی بچے پرورش پاتے ہوں تو تم بھی اس کو ذبح کرنے کے لیے طیار نہیں ہو جاتے لیکن اگر وہ کچھ بھی دودھ نہ دے بلکہ نری چارہ دانہ کی چٹی ہو تو تم فوراً اس کو ذبح کر لو گے ۔ اسی طرح پر لو ۔ جو آدمی اللہ تعالیٰ کا سچا فرمانبردار، نیک کام کرنے والا اور دوسروں کو نفع پہنچانے والا نہ ہو اس وقت تک