ملفوظات (جلد 6) — Page 116
ملفوظات حضرت مسیح موعود ١١۶ جلد زیادہ سزا ملے گی کہ تو نے باوجود علم کے پھر جرم کیا ہے اس لیے ایک سال کی بجائے چار سال کی سزا ہونی چاہیے۔ غرض نری با تیں کام نہ آئیں گی پس چاہیے کہ انسان پہلے اپنے آپ کو دکھ پہنچائے تا خدا تعالیٰ کو راضی کرے اگر وہ ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی عمر بڑھا دے گا اللہ تعالیٰ کے وعدوں میں تخلف نہیں ہوتا اس نے جو وعدہ فرمایا ہے کہ أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ (الرعد: ۱۸) یہ بالکل سچ ہے۔ عام طور پر بھی یہی قاعدہ ہے کہ جو چیز نفع رساں ہو اس کو کوئی ضائع نہیں کرتا یہاں تک کہ کوئی گھوڑا بیل یا گائے بکری اگر مفید ہو اور اس سے فائدہ پہنچتا ہوکون ہے جو اس کو ذبح کر ڈالے، لیکن جب وہ ناکارہ ہو جاتا ہے اور کسی کام نہیں آسکتا تو پھر اس کا آخری علاج وہی ذبح ہے اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اگر اور نہیں تو دو چار روپیہ کو کھال ہی بک جائے گی اور گوشت بھی کام آجائے گا اسی طرح پر جب انسان خدا تعالیٰ کی نظر میں کسی کام کا نہیں رہتا اور اس کے وجود سے کوئی فائدہ دوسرے لوگوں کو نہیں ہوتا تو پھر اللہ تعالی اس کی پروا نہیں کرتا بلکہ خس کم جہاں پاک کے موافق اس کو ہلاک کر دیتا ہے غرض یہ اچھی طرح یاد رکھو کہ نہ یا درکھو کہ نری لاف و گزاف اور زبانی قیل و قال کوئی فائدہ اور اثر نہیں رکھتی جب تک کہ اس کے ساتھ عمل نہ ہو اور ہاتھ پاؤں اور دوسرے اعضا سے نیک عمل نہ کئے جاویں جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف بھیج کر صحابہ سے خدمت لی۔ کیا انہوں نے صرف اسی قدر کافی سمجھا تھا کہ قرآن کو زبان سے پڑھ لیا یا اس پر عمل کرنا ضروری سمجھا تھا ؟ انہوں نے تو یہاں تک اطاعت و وفاداری دکھائی کہ بکریوں کی طرح ذبح ہو گئے اور پھر انہوں نے جو کچھ پایا اور خدا تعالیٰ نے ان کی جس قدر قدر کی وہ پوشیدہ بات نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ کے فضل اور فیضان کو حاصل کرنا فضل اور فیضان حاصل کرنے کا طریق مانتے ہو کہ کر کے لکھا اور یھی ھے کی ہو تو کچھ ؤ ورنہ کمی طرح تم پھینک دیئے جاؤ گے کوئی آدمی اپنے گھر کی اچھی چیزوں اور سونے چاندی کو باہر نہیں پھینک دیتا بلکہ ان اشیاء کو اور تمام کارآمد اور قیمتی چیزوں کو سنبھال سنبھال کر رکھتے ہولیکن اگر گھر میں کوئی چوہا