ملفوظات (جلد 6) — Page 113
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۳ سبب سے اور اور کبھی حسن کے سبب سے کبھی نسب کے سبب سے غرض مختلف صورتوں سے تکبر کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ وہی محرومی ہے اور اسی طرح پر بہت سے بڑے خُلق ہوتے ہیں جن کا انسان کو کوئی علم نہیں ہوتا اس لیے کہ وہ کبھی ان پر غور نہیں کرتا اور نہ فکر کرتا ہے ۔ انہیں بداخلاقیوں میں سے ایک غصہ بھی ہے ۔ جب انسان اس بدا ے جب انسان اس بداخلاقی میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ دیکھے کہ اس کی نوبت کہاں تک پہنچ جاتی ہے وہ ایک دیوانہ کی طرح ہوتا ہے اس وقت جو اس کے منہ میں آتا ہے کہہ گذرتا ہے اور گالی وغیرہ کی کوئی پروا نہیں کرتا ۔ اب دیکھو کہ اس ایک بداخلاقی کے نتائج کیسے خطرناک ہو جاتے ہیں پھر ایسا ہی ایک حسد ہے کہ انسان کسی کی حالت یا مال و دولت کو دیکھ کر کڑھتا اور جلتا ہے اور چاہتا ہے کہ یہ اس کے پاس نہ رہے اس سے بجز اس کے کہ وہ اپنی اخلاقی قوتوں کا خون کرتا ہے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا پھر ایک بداخلاقی بخل کی ہے باوجود یکہ خدا تعالیٰ نے اس کو مقدرت دی ہے مگر یہ انسانوں پر رحم نہیں کرتا ہمسایہ خواہ نگا ہو بھوکا ہومگر اس کو اس پر رحم نہیں آتا۔ مسلمانوں کے حقوق کی پروا نہیں کرتا وہ بجز اس کے کہ دنیا میں مال و دولت جمع کرتا رہے اور کوئی کام دوسروں کی ہمدردی اور آرام کے لیے نہیں رکھتا حالانکہ اگر وہ چاہتا اور کوشش کرتا تو اپنے قومی اور دولت سے دوسروں کو فائدہ پہنچا سکتا تھا مگر وہ اس بات کی فکر نہیں کرتا۔ غرضیکہ طرح طرح کے گناہ ہیں جن سے بچنا ضروری ہے یہ تو موٹے موٹے گناہ ہیں جن کو گناہ ہی نہیں سمجھتا پھر زنا ، چوری ، خون وغیرہ بھی بڑے بڑے گناہ ہیں اور ہر قسم کے گناہوں سے بچنا چاہیے۔ گناہوں سے بچنا گناہوں سے بچا یہ تو ادنی سی بات ہے اس لیے انسان کو چاہیے کہ گنا ہوں سے بیچ کر نیکی کرے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت لے اعلیٰ حضرت جب تقریر فرماتے فرماتے اس مقام پر پہنچے تو ایک بھائی آپ کی پڑتا ثیر تقریر سے متاثر ہو کر اٹھ کھڑا ہوا وہ کچھ عرض کرنا چاہتا تھا مگر پاس ادب سے وہ خاموش رہا جب حضرت تقریر کر چکے تو عرض کیا حضور مجھ میں غصہ بہت ہے دعا کریں۔ فرمایا۔ اچھا دعا کریں گے (ایڈیٹر الحکم )