ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 112

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۲ جلد ششم دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ تم سے راضی ہو جاوے اور وہ تمہیں توفیق اور قوت عطا فرمادے کہ تم گناہ آلود زندگی سے نجات پاؤ کیونکہ گناہوں سے بچنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کی توفیق شاملِ حال نہ ہو اور اس کا فضل عطا نہ ہو اور یہ توفیق اور فضل دعا سے ملتا ہے اس واسطے نمازوں میں دعا کرتے رہو کہ اے اللہ ہم کو ان تمام کاموں سے جو گناہ کہلاتے ہیں اور جو تیری مرضی اور ہدایت کے خلاف ہیں بچا اور ہر قسم کے دکھ اور مصیبت اور بلا سے جو ان گناہوں کا نتیجہ ہے بچا اور سچے ایمان پر قائم رکھ آمین ۔ کیونکہ انسان جس چیز کی تلاش کرتا ہے وہ اس کو ملتی ہے اور جس سے لا پروائی کرتا ہے اس سے محروم رہتا ہے جو ئندہ یا بندہ مثل مشہور ہے مگر جو گناہ کی فکر نہیں کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے ہیں وہ پاک نہیں ہو سکتے گناہوں سے وہی پاک ہوتے ہیں جن کو یہ فکر لگی رہتی ہے۔ اخلاقی گناہ بہت سے آدمی اس دنیا میں ایسے ہیں کہ ان کی زندگی ایک اندھے آدمی کی سی ہے کیونکہ وہ اس بات پر کوئی اطلاع ہی نہیں رکھتے کہ وہ گناہ کرتے ہیں یا گناہ کسے کہتے ہیں عوام تو عوام بہت سے عالموں فاضلوں کو بھی پتا نہیں لگتا کہ وہ گناہ کر رہے ہیں حالانکہ وہ بعض گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور کرتے رہتے ہیں گناہوں کا علم جب تک نہ ہو اور پھر انسان ان سے بچنے کی فکر نہ کرے تو اس زندگی سے کوئی فائدہ نہ اس کو ہوتا ہے اور نہ دوسروں کو خواہ سو برس کی عمر بھی کیوں نہ ہو جاوے لیکن جب انسان گناہ پر اطلاع پالے اور ان سے بچے تو وہ زندگی مفید زندگی ہوتی ہے مگر یہ ممکن نہیں ہے جب تک انسان مجاہدہ نہ کرے اور اپنے حالات اور اخلاق کو ٹٹولتا نہ رہے کیونکہ بہت سے گناہ اخلاقی ہوتے ہیں جیسے غصہ، غضب ، کینہ، جوش، ریا، تکبر ، حسد وغیرہ یہ سب بداخلاقیاں ہیں جو انسان کو جہنم تک پہنچا دیتی ہیں انہی میں سے ایک گناہ جس کا نام تکبر ہے شیطان نے کیا تھا یہ بھی ایک بد خلقی ہی تھی جیسے لکھا ہے آبی وَاسْتَكْبَر (البقرۃ: ۳۵) اور پھر اس کا نتیجہ کیا ہوا وہ مردو د خلائق ٹھہرا اور ہمیشہ کے لیے لعنتی ہوا۔ مگر یا درکھو کہ یہ تکبر صرف شیطان ہی میں نہیں ہے بلکہ بہت ہیں جو اپنے غریب بھائیوں پر تکبر کرتے ہیں اور اس طرح پر بہت سی نیکیوں سے محروم رہ جاتے ہیں اور یہ تکبر کئی طرح پر ہوتا ہے کبھی دولت کے سبب سے کبھی علم کے