ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 4

ملفوظات حضرت مسیح موعود لد جلد صفت کا موصوف نہیں۔ قبر سے کسی آواز کی اُمید مت رکھو۔ برخلاف اس کے اگر اللہ تعالیٰ کو اخلاص اور ایمان کے ساتھ دن میں دس مرتبہ بھی پکارو تو میں یقین رکھتا ہوں اور میرا اپنا تجربہ ہے کہ وہ دس دفعہ ہی آواز سنتا اور دس ہی دفعہ جواب دیتا ہے لیکن یہ شرط ہے کہ پکارے اس طرح پر جو پکارنے کا حق ہے۔ ہم سب ابرار ، اخیار امت کی عزت کرتے ہیں اور ان سے محبت رکھتے ہیں لیکن ان کی محبت اور عزت کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ ہم ان کو خدا بنا لیں اور وہ صفات جو خدا تعالیٰ میں ہیں ان میں یقین کر لیں ۔ میں بڑے دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ وہ ہماری آواز نہیں سنتے اور اس کا جواب نہیں دیتے۔ - دیکھو! حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ایک گھنٹہ میں ۷۲ آدمی آپ کے شہید ہو گئے ۔ اس وقت آپ سخت نرغہ میں تھے اب طبعاً ہر ایک شخص کا کانشنس گواہی دیتا ہے کہ وہ اس وقت جبکہ ہر طرف سے دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے اپنے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوں گے کہ اس مشکل سے نجات مل جاوے لیکن وہ دعا اس وقت منشاء الہی کے خلاف تھی اور قضا و قدر اس کے مخالف تھے اس لیے وہ اسی جگہ شہید ہو گئے ۔ اگر ان کے قبضہ واختیار میں کوئی بات ہوتی تو انہوں نے کون سا دقیقہ اپنے بچاؤ کے لیے اُٹھا رکھا تھا مگر کچھ بھی کارگر نہ ہوا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قضا وقدر کا سارا معاملہ اور تصرف تام اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے جو اس قدر ذخیرہ قدرت کا رکھتا ہے اور حی و قیوم ہے اس کو چھوڑ کر جو مردوں اور عاجز بندوں کی قبروں پر جا کر ان سے مرادیں مانگتا ہے اس سے بڑھ کر بے نصیب کون ہو سکتا ہے؟ انسان کے سینہ میں دو دل نہیں ہوتے ۔ ایک ہی دل ہے وہ دو جگہ محبت نہیں کر سکتا اس لیے اگر کوئی زندوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتا ہے وہ حفظ مراتب نہیں کرتا۔ اور یہ مشہور بات ہے۔ مع گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی خدا تعالیٰ کو خدا تعالیٰ کی جگہ پر رکھو اور انسان کو انسان کا مرتبہ دو۔ اس سے آگے مت بڑھاؤ مگر میں افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ حفظ مراتب نہیں کیا جاتا۔ زندہ اور مردہ کی تفریق ہی نہیں رہی بلکہ