ملفوظات (جلد 6) — Page 3
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳ جلد ششم حالت ہو رہی ہے کہ وہ تدبیریں تو کرتے ہیں مگر دعا سے غفلت کی جاتی ہے بلکہ اسباب پرستی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ تدابیر دنیا ہی کو خدا بنا لیا گیا ہے اور دعا پر ہنسی کی جاتی ہے اور اس کو ایک فضول شے قرار دیا جاتا ہے یہ سارا اثر یورپ کی تقلید سے ہوا ہے یہ خطرناک زہر ہے جو دنیا میں پھیل رہا ہے مگر خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس زہر کو دور کرے چنانچہ یہ سلسلہ اس نے اسی لیے قائم کیا ہے۔ تا دنیا کو خدا کی معرفت ہو اور دعا کی حقیقت اور اس کے اثر سے اطلاع ملے ۔ بعض لوگ اس قسم کے بھی ہیں جو بظاہر دعا بھی کرتے ہیں مگر اس کے فیوض آداب الدعا اور ثمرات سے بے بہرہ رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سے ہے کہ وہ آداب الدعا سے ناواقف ہوتے ہیں اور دعا کے اثر اور نتیجہ کے لیے بہت جلدی کرتے ہیں اور آخر تھک کر رہ جاتے ہیں حالانکہ یہ طریق ٹھیک نہیں ہے۔ پس کچھ تو پہلے ہی زمانہ کے اثر اور رنگ سے اسباب پرستی ہوگئی ہے اور دعا سے غفلت عام ہو گئی ۔ خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں رہا۔ نیکیوں کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی اور کچھ نا واقفی اور جہالت نے تباہی کر رکھی ہے کہ حق کو چھوڑ کر صراط مستقیم کو چھوڑ کر اور اور طریقے اور راہ ایجاد کر لیے گئے ہیں ۔ جس کی وجہ سے لوگ بہکتے پھر رہے ہیں اور کامیاب نہیں ہوتے۔ سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ جس سے دعا کرتا ہے اس پر کامل ایمان ہو۔ اس کو موجودہ سمیع ، بصیر، خبیر، علیم، متصرف، قادر سمجھے اور اس کی ہستی پر ایمان رکھے کہ وہ دعاؤں کو سنتا ہے اور قبول کرتا ہے مگر کیا کروں کس کو سناؤں اب اسلام میں مشکلات ہی اور آپڑی ہیں کہ جو محبت خدا تعالیٰ سے کرنی چاہیے وہ دوسروں سے کرتے ہیں اور خدا کا رتبہ انسانوں اور مردوں کو دیتے ہیں۔ حاجت روا اور مشکل کشا صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پاک تھی ۔ مگر اب جس قبر کو دیکھو وہ حاجت روا ٹھہرائی گئی ہے۔ میں اس حالت کو دیکھتا ہوں تو دل میں درد اٹھتا ہے مگر کیا کہیں، کس کو جا کر سنائیں ۔ دیکھو! قبر پر اگر ایک شخص میں برس بھی بیٹھا ہوا پکارتا رہے اس قبر سے کوئی آواز نہیں آئے گی مگر مسلمان ہیں کہ قبروں پر جاتے اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں۔ میں کہتا ہوں وہ قبر خواہ کسی کی بھی ہو اس سے کوئی مراد بر نہیں آسکتی ۔ حاجت روا اور مشکل گشا تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور کوئی اس