ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 5

ملفوظات حضرت مسیح موعود ♡ انسان عاجز اور خدائے قادر میں بھی کوئی فرق اس زمانہ میں نہیں کیا جاتا۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے۔ صدیوں سے خدا تعالیٰ کا قدر نہیں پہچانا گیا اور خدا تعالیٰ کی عظمت و جبروت عاجز بندوں اور بے قدر چیزوں کو دی گئی ۔ مجھے تعجب آتا ہے ان لوگوں پر جو مسلمان کہلاتے ہیں لیکن باوجود مسلمان کہلانے کے خدا تعالیٰ کو چھوڑتے ہیں اور اس کی صفات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں جیسا کہ میں دیکھتا ہوں کہ مسیح بن مریم کو جو ایک عاجز انسان تھا اور اگر قرآن شریف نہ آیا ہوتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث نہ ہوئے ہوتے تو ان کی رسالت بھی ثابت نہ ہوتی بلکہ انجیل سے تو وہ کوئی اعلیٰ اخلاق کا آدمی بھی ثابت نہیں ہوتا لیکن عیسائیوں کے اثر سے متاثر ہو کر مسلمان بھی ان کو خدائی درجہ دینے میں پیچھے نہیں رہے کیونکہ جیسا کہ وہ صاف مانتے ہیں کہ وہ اب تک حتی وقیوم ہے اور زمانہ کا کوئی اثر اس پر نہیں ہوا، آسمان پر موجود ہے۔ مردوں کو زندہ کیا کرتا تھا۔ جانوروں کو پیدا کرتا تھا۔ غیب جاننے والا تھا۔ پھر اس کے خدا بنانے میں اور کیا باقی رہا۔ افسوس مسلمانوں کی عقل ماری گئی جو ایک خدا کے ماننے والے تھے وہ اب ایک مردہ کو خدا سمجھتے ہیں۔ اور ان خداؤں کا تو شمار نہیں جو مردہ پرستوں اور مزار پرستوں نے بنائے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت اور صورت میں خدا تعالیٰ کی غیرت نے یہ تقاضا کیا ہے کہ ان مصنوعی خداؤں کی خدائی کو خاک میں ملا یا جاوے اور زندوں اور مردوں میں ایک امتیاز قائم کر کے دنیا کو حقیقی خدا کے سامنے سجدہ کرایا جاوے۔ اسی غرض کے لیے اس نے مجھے بھیجا ہے اور اپنے نشانوں کے ساتھ بھیجا ہے۔ یاد رکھو انبیاء علیہم السلام کو جو شرف اور رتبہ ملا وہ صرف اسی بات سے ملا ہے کہ انہوں نے حقیقی خدا کو پہچانا اور اس کی قدر کی ۔ اسی ایک ذات کے حضور انہوں نے اپنی ساری خواہشوں اور آرزوؤں کو قربان کیا۔ کسی مردہ اور مزار پر بیٹھ کر انہوں نے مرادیں نہیں مانگی ہیں۔ دیکھو! حضرت ابراہیم علیہ السلام کتنے بڑے عظیم الشان نبی تھے اور خدا تعالیٰ کے حضور ان کا کتنا بڑا درجہ اور رتبہ تھا اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بجائے خدا تعالیٰ کے حضور گرنے کے ابراہیم