ملفوظات (جلد 6) — Page 103
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۳ ہونے کے واسطے بھی اللہ تعالیٰ ہی کا فضل درکار ہے جب اللہ تعالیٰ اس کے رجوع اور تو بہ کو دیکھتا ہے تو اس کے دل میں غیب سے ایک بات پڑ جاتی ہے اور وہ گناہ سے نفرت کرنے لگتا ہے اور اس حالت کے پیدا ہونے کے لیے حقیقی مجاہدہ کی ضرورت ہے۔ وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سبلنا (العنکبوت : ۷۰) جو مانگتا ہے اس کو ضرور دیا جاتا ہے اسی لیے میں کہتا ہوں کہ دعا جیسی کوئی چیز نہیں۔ دنیا میں دیکھو کہ بعض خر گدا ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ہر روز شور ڈالتے رہتے ہیں ان کو آخر کچھ نہ کچھ دینا ہی پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ تو قادر اور کریم ہے جب یہ اڑ کر دعا کرتا ہے تو پالیتا ہے کیا خدا انسان جیسا بھی نہیں ؟ قبولیت دعا کار از یه قاعده یا د رکھو کہ جب دعا سے باز نہیں آتا اور اس میں لگا رہتا ہے تو آخر دعا دعا قبول ہو جاتی ہے مگر یہ بھی یادر ہے کہ باقی ہر قسم کی دعا میں طفیلی ہیں اصل دعائیں اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے واسطے کرنی چاہئیں باقی دعائیں خود بخو د قبول ہو جائیں گی کیونکہ گناہ کے دور ہونے سے برکات آتی ہیں یوں دعا قبول نہیں ہوتی جو نری دنیا ہی کے واسطے ہو۔ کے اس لیے پہلے خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے واسطے دعائیں کرے اور وہ سب سے بڑھ کر دعا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة : 1 ) سے ہے جب یہ دعا کرتا رہے گا تو وہ مُنْعَمْ عَلَيْهِمْ کی جماعت میں داخل ہوگا جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی محبت کے دریا میں غرق کر دیا ہے ان لوگوں کے زمرہ میں جو منقطعین ہیں داخل ہو کر یہ وہ انعامات الہی حاصل کرے گا جیسی عادت اللہ ل البدر سے ۔ انسان کی ضرورتوں اور خواہشوں کی تو کوئی حد نہیں اور بعض لوگ انہی کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں اور ان کو خدا کو راضی کرنے اور گناہ سے بچنے کی دعا کا موقع ہی نہیں پیش آتا لیکن اصل بات یہ ہے کہ دنیا کے لیے جو دعا کی جاتی ہے وہ جہنم ہے دعا صرف خدا کو راضی کرنے اور گناہوں سے بچنے کی ہونی چاہیے باقی جتنی دعائیں ہیں وہ خود اس کے اندر آجاتی ہیں ۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ صفحه (۴) 66 البدر سے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ بڑی دعا ہے صراط مستقیم گویا : راط مستقیم گویا خدا کو شناخت کرتا ہے اور انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کل گناہوں سے بچتا ہے اور صالحین میں داخل ہوتا ہے۔“ 66 البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ صفحه (۴)