ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 104

ملفوظات حضرت مسیح موعود اولد جلد ان سے جاری ہے۔ یہ کبھی کسی نے نہیں سنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک راست باز متقی کو رزق کی ماردے بلکہ وہ تو سات پشت تک بھی رحم کرتا ہے قرآن شریف میں خضر و موسیٰ کا قصہ درج ہے کہ انہوں نے ایک خزانہ نکالا۔ اس کی بابت کہا گیا کہ اَبُوهُمَا صَالِحًا (الكهف : ۸۳) اس آیت میں ان کے والدین کا ذکر تو ہے لیکن یہ ذکر نہیں کہ وہ لڑ کے خود کیسے تھے باپ کے طفیل سے اس خزانہ کو محفوظ رکھا تھا اور اس لیے ان پر رحم کیا گیا لڑکوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ ستاری سے کام لیا۔ توریت اور ساری آسمانی کتابوں سے پایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ متقی کو ضائع نہیں کرتا اس لیے پہلے ایسی دعائیں کرنی چاہئیں جن سے نفس امارہ نفس مطمئنہ ہو جاوے۔ اور اللہ تعالیٰ راضی ہو جاوے ۔ پس اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة : ٦) کی دعائیں مانگو کیونکہ اس کے قبول ہونے پر جو یہ خود مانگتا ہے خدا تعالیٰ خود دیتا ہے۔ سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ جب انسان سچی توبہ کرتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ یہ دیتا ہے۔ یہ دیتا ہے آخر کہتے ہیں کہ بیوی بھی دیتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب واقعات وہ اپنے بیان کرتے ہیں اور یہ ہے بالکل سچ کہ خدا تعالیٰ خود متعہد ہو جاتا ہے اس کے موافق میرا بھی ایک الہام ہے۔ ہر چہ باید نو عروسی را ہماں ساماں کنم غرض کے جب متولی اور متکفل خدا ہو تو پھر کیا ہی مزا آتا ہے۔ کے استفسارات اور ان کے جوابات سوال اول یا شیخ عبد القادر جیلانی شَيْئًا لِلهِ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ جواب ۔ ہرگز نہیں یہ توحید کے برخلاف ہے۔ وو ل البدر سے ۔ غرضیکہ خدا اس کا کفیل مثل ماں باپ کے ہو جاتا ہے اور جب خدا متولی اور کفیل ہو تو کس قدر مزے 66 کی بات ہے۔“ الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۵ تا ۷ البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه (۵)