ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 102

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۲ جلد ششم اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہو جاتا ہے۔ صحار راضی ہو جاتا ہے۔ صحابہ نے یہی کیا۔ انہوں نے اپنی جان کی پروانہ کی ہے اور اپنے خون بہا دیئے ۔ شہید بھی وہی ہوتا ہے جو جان دینے کا قصد کرتا ہے اگر یہ نہیں تو پھر کچھ نہیں ۔ یہ چند کلمے نا گہانی آفات سے بچنے اور سچا مسلم بننے کے لیے ہیں اور اگر انسان ان پر عمل کرے تو طاعون سے بچانے کا یہ بھی ایک ذریعہ ہیں۔ بلاؤں کے نزول کے وقت دعاؤں میں لگے رہیں۔ یاد رکھو ر الہی کا یا درکھو قہر الہی کو کوئی روک نہیں سکتا وہ سخت چیز ہے خبیث قوموں پر جب نازل ہوا ہے تو وہ تباہ ہوگئی ہیں اس قہر سے ہمیشہ کامل ایمان بچا سکتا ہے ناقص ایمان بچا نہیں سکتا بلکہ کامل ایمان ہو تو دعا ئیں بھی قبول ہوتی ہیں اور اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمُ (المؤمن : ۶۱ ) خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جو خلاف نہیں ہوتا کیونکہ اِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ ( ال عمران : ۱۰) اس کا 1) فرمان ہے۔ پس ایسے وقت میں کہ آفت نازل ہو رہی ہے ایک تو یہ چاہیے کہ دعائیں کرتے رہیں ۔ ہے دوسرے صغائر کبائر سے جہاں تک ممکن ہو بچتے رہیں تدبیروں اور دعاؤں میں لگے رہیں گناہ کا زہر بڑا خطرناک ہے اس کا مزا اسی دنیا میں چکھنا پڑتا ہے۔ گناہ دو طرح پر ہوتے ہیں ۔ ایک گناہ غفلت سے ہوتے ہیں جو شباب میں ہو جاتے ہیں کے دوسرے بیداری کے وقت میں ہوتے ہیں جب انسان پختہ عمر کا ہو جاتا ہے ایسے وقت میں جب گناہوں سے راضی نہیں ہوگا اور ہر وقت استغاثہ کرتا رہے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر سکینت نازل کرے گا اور گناہوں سے بچالے گا۔ گناہوں سے پاک ل البدر سے ۔” خدا تعالیٰ اس کا تذکرہ فرماتا ہے کہ ان میں سے بہتوں نے جان دے دی اور بعض ابھی تک منتظر البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ / مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه (۴) ہیں ۔“ البدر سے۔ دعا کرتے رہیں کہ خدا تعالیٰ شماتت اعداء سے بچاوے۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه ۴) سے البدر سے ۔ اگر ان کے بعد انسان نے عمر پائی اور پھر بھی باز نہ آیا تو یہ بہت ہی بری بات ہے گناہ بہت بڑی ھے ہے جس قدر ا مراض جسمانی ہیں شاید اتنے ہی گناہ بھی ہیں اور امراض کی طرح بعض ایسے ہوتے ہیں کہ انسان کی جزو ہوتے ہیں ۔ 66 البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه (۴)