ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 2 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 2

ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد جیسے ایک زمیندار اپنی زمین میں تردد تو نہیں کرتا اور بدوں کاشت کے دعا کرتا ہے کہ اس میں غلہ پیدا ہو جاوے۔ وہ حق تدبیر کو چھوڑتا ہے اور خدا تعالیٰ کا امتحان کرتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اور اسی طرح پر جو شخص صرف تدبیر کرتا ہے اور اسی پر بھروسہ کرتا اور خدا تعالیٰ سے دعا نہیں مانگتا وہ ملحد ہے۔ جیسے پہلا آدمی جو صرف دعا کرتا ہے اور تدبیر نہیں کرتا تدبیر اور دعا کا اتحاد اسلام ہے، وہ خطا کار ہے۔ اس طرح پر یہ دوسرا جوتد بیری کو کافی سمجھتا ہے وہ ملحد ہے مگر تد بیر اور دعا دونوں باہم ملا دینا اسلام ہے۔ اسی واسطے میں نے کہا ہے کہ گناہ اور غفلت سے بچنے کے لیے اس قدر تد بیر کرے جو تدبیر کا حق ہے اور اس قدر دعا کرے جو دعا کا حق ہے۔ اسی واسطے قرآن شریف کی پہلی ہی سورۃ فاتحہ میں ان دونوں باتوں کو مد نظر رکھ کر فرمایا ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحة : ٥) إِيَّاكَ نَعْبُدُ اسی اصل تدبیر کو بتاتا ہے اور مقدم اس کو کیا ہے کہ پہلے انسان رعایت اسباب اور تدبیر کا حق ادا کرے مگر اس کے ساتھ ہی دعا کے پہلو کو چھوڑ نہ دے بلکہ تدبیر کے ساتھ ہی اس کو مد نظر رکھے ۔ مومن جب إِيَّاكَ نَعْبُدُ کہتا ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں تو معاً اس کے دل میں گزرتا ہے کہ میں کیا چیز ہوں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں جب تک اس کا فضل اور کرم نہ ہو۔ اس لیے وہ معاً کہتا ہے إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ مدد بھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں۔ یہ ایک نازک مسئلہ ہے جس کو بجز اسلام کے اور کسی مذہب نے نہیں سمجھا ۔ اسلام ہی نے اس کو سمجھا ہے۔ عیسائی مذہب کا تو ایسا حال ہے کہ اس نے ایک عاجز انسان کے خون پر بھروسہ کر لیا اور انسان کو خدا بنا رکھا ہے۔ ان میں دعا کے لیے وہ جوش اور اضطراب ہی کب پیدا ہو سکتا ہے جو دعا کے ضروری اجزا ہیں وہ تو انشاء اللہ کہنا بھی گناہ سمجھتے ہیں لیکن مومن کی روح ایک لحظہ کے لیے بھی گوارا نہیں کرتی کہ وہ کوئی بات کرے اور انشاء اللہ ساتھ نہ کہے۔ پس اسلام کے لیے یہ ضروری امر ہے کہ اس میں داخل ہونے والا اس اصل کو مضبوط پکڑ لے۔ تدبیر بھی کرے اور مشکلات کے لیے دعا بھی کرے اور کراوے۔ اگر ان دونوں پلوں میں سے کوئی ایک ہلکا ہے تو کام نہیں چلتا ہے اس لیے ہر ایک مومن کے واسطے ضروری ہے کہ اس پر عمل کرے مگر اس زمانہ میں دیکھتا ہوں کہ لوگوں کی یہ