ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 91

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۱ جلد پنجم طلاق پر آریوں کے اعتراض نیوگ اور طلاق میں سے کون سا امر کانشنس کے خلاف ہے سی ار فرمایا کہ اگر طلاق ایسا امر ہوتا جو کہ کانشنس کے خلاف ہے تو پھر دیگر اقوام بھی اسے بجا نہ لاتیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی بھی ایسی قوم نہیں ہے جو ضرورت کے وقت عورت کو طلاق نہ دیتی ہو لیکن اگر نیوگ بھی ایسا ہی ہے تو آریوں کو چاہیے کہ اپنی قوم کے معزز اور برگزیدہ کئی سو ممبر انتخاب کریں کہ جن کی اولاد نہ ہو اور پھر وہ اپنی عورتوں سے نیوگ کر اویں اور شائع کریں کہ فلاں فلاں صاحب اپنی عورت سے نیوگ کرواتے ہیں جب تک وہ یہ نمونہ نہ دکھلا دیں تب تک بحث فضول ہے اور جب وہ ایسا کریں تو پھر ہم کو ان پر کچھ افسوس نہ ہو گا ہمارا اعتراض اس وقت تک ہے جب تک وہ اسے عملی طور پر قوم میں نہیں دکھلاتے اسی طرح اگر وہ بالمقابل چاہیں تو ہم اہل اسلام کے رؤسا اور معزز لوگوں کی ایسی فہرست طیار کر دیویں گے جنہوں نے معقول وجوہات پر اپنی بیویوں کو طلاق دی ہے۔ احمدی جماعت میں سے ایک صاحب نے اپنی عورت کو طلاق دی ۔ عورت کے رشتہ وجوہ طلاق داروں نے حضرت کی خدمت میں شکایت کی کہ بے وجہ اور بے سبب طلاق دی گئی ہے۔ مرد کے بیانوں سے یہ بات پائی گئی کہ اگر اسے کوئی ہی سزا دی جاوے مگر وہ اس عورت کو بسانے پر ہرگز آمادہ نہیں ہے عورت کے رشتہ داروں نے جو شکایت کی تھی ان کا منشا تھا کہ پھر آبادی ہو اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ عورت مرد کا معاملہ آپس میں جو ہوتا ہے اس پر دوسرے کو کامل اطلاع نہیں ہوتی بعض وقت ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی فحش عیب عورت میں نہیں ہوتا مگر تا ہم مزاجوں کی ناموافقت ہوتی ہے جو کہ باہمی معاشرہ کی مخل ہوتی ہے ایسی صورت میں مرد طلاق دے سکتا ہے۔ بعض وقت عورت گوولی ہو اور بڑی عابد اور پرہیز گار اور پاکدامن ہو اور اس کو طلاق دینے میں خاوند کو بھی رحم آتا ہو بلکہ وہ روتا بھی ہو مگر پھر بھی چونکہ اس کی طرف سے کراہت ہوتی ہے اسی لیے وہ طلاق دے سکتا ہے مزاجوں کا آپس