ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 90

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۰ جلد پنجم یہودیوں کو مسیح کے وقت یہی مغالطہ ہوا انہوں نے کہا کہاں داؤد کی بادشاہت قائم ہوئی اور یہی دعویٰ آخر کار رخنہ کا موجب ہوا ۔ اگر پیغمبر پر ہر ایک تفصیل کھول دی جاتی تو پھر ہر ایک پیغمبر کو یہ علم ہوتا کہ میرے بعد فلاں پیغمبر آوے گا اور موسیٰ علیہ السلام کو علم ہوتا کہ میرے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے حالانکہ ان کا یہی خیال ہو گا کہ آپ بنی اسرائیل سے ہوں گے ۔اسی طرح آئندہ کے امور بعض وقت ایک نبی پر منکشف کئے جاتے ہیں مگر تفصیلی علم نہیں دیا جاتا۔ پھر جب ان کا وہ وقت آتا ہے تو خود بخود حقیقت کھل جاتی ہے۔ ہم کہتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو حکم ہو کر آئے تھے تو کیا آپ نے یہود کی کل باتیں تسلیم کر لی تھیں ؟ ( مجلس قبل از عشاء ) ایک مقام کے چند ایک احباب آریوں کے ایک ایسے جلسے میں گئے تھے جہاں دینی غیرت آنحضرت صلی اللہ علیہ اور آپ کی پاک تعلیم پر ناجائز اور بخش سے بھرے ہوئے نا معقول حملے ہورہے تھے اس پر حضرت اقدس نے ناراضگی کا اظہا کیا کہ یہ لوگ ایسی محفلوں میں کیوں جاتے ہیں؟ اور جب ایسے ذکر اذکار شروع ہوں تو کیوں نہیں اٹھ کر چلے آتے ؟ ہماری رائے میں ہمارے احباب کو یہ طریق اختیار کرنا چاہیے کہ وہ اپنی ہفتہ وار کمیٹی میں ایسی باتوں کی تردید کیا کریں اور بذریعہ اشتہار کے ان تمام لوگوں کو مدعو کیا کریں جو کہ اعتراض کرتے ہیں یہ طریق نہایت امن اور عمدہ تبلیغ حق کا ہے اور غیرت دینی کے بہت اقرب ہے۔ اعتراض ۔ ایک شخص کی طرف سے یہ سوال پیش ہوا کہ مرزا صاحب نبوت کا اقرار اور انکار اپنی تصنیفات میں کہیں نبوت کی نفی کرتے ہیں اور کہیں جواز ۔ جواب ۔ فرمایا۔ یہ اس کی غلطی ہے ہم اگر نبی کا لفظ اپنے لیے استعمال کرتے ہیں تو ہم ہمیشہ وہ مفہوم لیتے ہیں جو کہ ختم نبوت کا محل نہیں ہے اور جب اس کی نفی کرتے ہیں تو وہ معنے مراد ہوتے ہیں جو ختم نبوت کے محل ہیں۔