ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 92

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۲ جلد پنجم میں موافق نہ ہونا یہ بھی ایک شرعی امر ہے اس لیے ہم اب اس میں دخل نہیں دے سکتے جو ہوا سو ہوا۔ مہر کا جو جھگڑا ہو وہ آپس میں فیصلہ کر لیا جاوے۔' ۲۷ را پریل ۱۹۰۳ء (بوقت میر ) ضرورت حکم جب مدت دراز گذر جاتی ہے اور غلطیاں پڑ جاتی ہیں تو خدا ایک حکم مقرر کرتا ہے جو ان غلطیوں کی اصلاح کرتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح کے سات سو برس بعد آئے اس وقت ساتویں صدی میں ضرورت پڑی تو کیا اب چودہویں صدی میں بھی ضرورت نہ پڑتی اور پھر جس حال میں کہ ایک ملہم ایک صحیح حدیث کو وضعی اور وضعی کو صحیح بذریعہ الہام کے قرار دے سکتا ہے اور یہ اصول ان لوگوں کا مسلّم ہے تو پھر حکم کو کیوں اختیار نہیں ہے؟ ایک حدیث کیا اگر وہ ایک لاکھ حدیث بھی پیش کریں تو ان کی پیش کب چل سکتی ہے؟ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ذکر پر فرمایا کہ الْعِزَّةُ لِلهِ انہوں نے لکھا تھا کہ ہم ہی نے اونچا کیا تھا اور ہم ہی اسے نیچا گرادیں گے مگر ہم پوچھتے ہیں کہ انہوں نے چڑھانے کے لیے کیا کوشش کی تھی ہم پر تو سوائے خدا کے کسی کا ذرہ بھر بھی احسان نہیں ہاں اب گرانے کے لیے انہوں نے بہت کوشش کی اور جتنی اس نے کی اور کسی نے مطلق نہیں کی مگر خدا کے آگے کس کی پیش چلتی ہے۔ اس کے بعد مولوی صاحب کی شہادت قتل کے مقدمہ میں اور وہاں کرسی وغیرہ مانگنے کا ذکر ہوتا رہا اس پر نار باس حضرت نے فرمایا کہ علماء دین کے واسطے ظاہری بلندی چاہنی عیب قلوب میں عظمت ڈالنا خدا کا کام ہے میں داخل ہے قلوب میں عظمت ڈالنی انسانی ہاتھ کا کام نہیں ہے یہ ایک کشش ہوتی ہے جو کہ خدا کے ارادہ سے ہوتی ہے ہم کیا کر رہے ہیں ل البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۱۶ ، ۱۱۷