ملفوظات (جلد 5) — Page 89
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۹ جلد پنجم بعض احادیث ائمہ اہل حدیث کے نزدیک موضوع ہوتی ہیں اور اہل کشف بذریعہ کشف ان کو صحیح قرار دیتے ہیں اور وہ حق پر ہوتے ہیں ۔ اب وہ خود ہی بتادیں کہ ہم کیا کریں۔ کیا ہم خدا تعالیٰ کے الہام کو مانیں یا کسی دوسرے کے قیل و قال کو؟ براہین احمد یہ موجود ہے اور وہ دشمنوں دوستوں سب کے ہاتھ میں ہے اس میں اس وقت سے ۲۵ سال پہلے کی وہ وہ پیشگوئیاں اور وعدے بھرے ہوئے ہیں جن کا اس وقت نام ونشان بھی نہ تھا۔ اور وہ اب بڑے زور شور سے اپنے سچے معنوں میں پوری ہو رہی ہیں کیا کوئی آدمی ایسی نظیر بتا سکتا ہے کہ کسی کا ذب کو ایسے سامان ملے ہوں کہ پہلے اتنا عرصہ دراز اس نے پیشگوئیاں کی ہوں اور وہ پھر ہماری طرح پوری ہوئی ہوں اور وہ کامیاب ہو گیا ہو۔ لے ، ہے ۲۶ را پریل ۱۹۰۳ء (بوقت سیر) فرمایا کہ خدا کے علم کے ساتھ بشر کا علم خدا تعالیٰ اور انبیاء کا علم مساوی نہیں ہوتا مساوی نہیں ہو سکتا۔ اس لیے انبیاء سے اجتہاد میں غلطیاں واقع ہوتی رہی ہیں اور پھر جب خدا نے اس پر اطلاع دی تو ان کو علم ہوا۔ الحکم جلدے نمبر ۱۶ مورخہ ۳۰ را پریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۸ البدر میں ۲۵ اپریل کی ڈائری میں مندرجہ ذیل دو باتیں لکھی ہیں جو الحکم میں نہیں حالانکہ الحکم کی باقی ڈائری مفصل ہے مگر معلوم ہوتا ہے یہ دو باتیں وہاں رہ گئی ہیں۔ البدر میں ہے۔ نرمی فرمایا۔ نرمی اس بات کا نام نہیں ہے کہ دوسرا اگر مقابل پر نرمی کرتا رہا تو تم بھی کرتے رہو اور جب اس نے ذرا تیور بدلے تو تم نے بھی بدل لیے بلکہ جب فریق مقابل سختی کرے اور اس وقت تم نرمی کرو تو اس کا نام نرمی ہوگا۔ عمر کا اثر انسان پر فرمایا کہ عمر کا بھی اثر انسان کے اخلاق اور عادات پر پڑتا ہے چالیس سال تک انسان بہت سی بیہودگیاں کرتا ہے۔ اس کے بعد جب انحطاط شروع ہوتا ہے تو ساتھ ہی خیالات کا بھی انحطاط شروع ہوتا ہے اور ایک تغیر عظیم انسان کے اندر ہوتا ہے ۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحه ۱۱۶)