ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 86

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۶ جلد پنجم ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء) کسی نے اعتراض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ کیوں کوئی احمدی طاعون سے ایک اعتراض کا جواب فوت ہوتا ہے؟ فرمایا کہ یہ ان لوگوں کی غلط نہی ہے کہ انجام کو نہیں دیکھتے ۔ آنحضرت کے وقت جب ایک طرف کا فر مرتے ہوں گے اور ایک طرف صحابہ بھی ۔ تو لوگ اعتراض تو کرتے ہوں گے کہ مرتے تو وہ بھی ہیں پھر فرق کیا ؟ اس لیے ہمیشہ انجام کو دیکھنا چاہیے۔ ایک وہ وقت تھا کہ آنحضرت اکیلے تھے اور کوئی ساتھ نہ تھا ہر ایک مقابلہ کے لیے طیار ہوتا۔ اب ہم ان لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر طاعون سے ہمارے مرید مرتے جاتے ہیں تو پھر ہماری ترقی کیوں ہوتی جاتی ہے؟ اور ان کی جمعیت کیوں گھٹتی جاتی ہے؟ یہ اعتراض تو پھر سب پیغمبروں پر ہوگا اور ہم نے تو اس لیے کشتی نوح میں لکھ دیا تھا کہ اگر عافیت کا پہلو نسبتاً ہماری طرف ہے تو ہم سچے اور موت تو سب کو آتی ہے اس سے کس کو انکار ہے ۔ طاعون کو جو ایک طرف شہادت اور ایک طرف عذاب کہا جاتا ہے۔ اس کے یہی معنے ہیں کہ اس کے ذریعے سے جس فریق کے لیے برکات ظاہر ہورہے ہیں ان کے لیے تو شہادت اور رحمت ہے اور جن کے لیے برکات ظاہر نہ ہوں اور کمی ہوتی جاوے ان کے لیے عذاب ہے ۔ ہم کو اس سے دو فائدے ہیں اور ان کو دو نقصان ہیں اور پھر ہم ہیں سال سے براہین میں یہ پیشگوئی عذاب کی شائع کر چکے ہیں ۔ خدا نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ ان کا فروں کو جس طرح چاہے عذاب دیوے ۔ پھر جب ان لوگوں کو وہ عذاب ایک جنگ کے رنگ میں نازل ہوا تو کفار کے ساتھ صحابہ کیوں اس میں حصہ لیتے رہے؟ یہ امر اس لیے ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ایک پہلو اخفا اور ایمان بالغیب کا بھی رہے۔ آج کل طاعون کی کثرت کے وقت اکثر سکھوں اور ہندوؤں کے ہندوؤں کا بانگ دلوانا گاؤں میں یہ علاج کیا جاتا ہے کہ اذان نماز بڑے زور اور کثرت سے