ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 85

ملفوظات حضرت مسیح موعود ولادت پاک ہے۔ ۸۵ جلد پنجم یہودی تو ایسے بیباک اور دلیر تھے کہ ان کے منہ پر بھی ان کی ولادت پر حملہ کرتے تھے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ وہ میں شیطان سے پاک ہے اس میں بھی اسی کی تصدیق ہے ورنہ تمام انبیاء اور صلحاء میں شیطان سے پاک ہوتے ہیں۔ حضرت مسیح کی کوئی خصوصیت نہیں ۔ ان کی صراحت اس واسطے کی ہے کہ ان پر ایسے ایسے اعتراض ہوئے اور کسی نبی پر چونکہ اعتراض نہیں ہوئے اس لیے ان کے لیے صراحت کی ضرورت بھی نہ پڑی دوسرے نبیوں یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسے الفاظ ہوتے تو یہ بھی ایک قسم کی توہین ہے کیونکہ اگر ایک مسلم و مقبول نیک آدمی کی نسبت کہا جاوے کہ وہ تو زانی نہیں یہ اس کی ایک رنگ میں ہتک ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو توخود اہل مکہ تسلیم کر چکے ہوئے تھے کہ وہ میں شیطان سے پاک ہے تب ہی تو آپ کا نام انہوں نے امین رکھا ہوا تھا اور آپ نے ان پر تحدی کیا کہ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عمرا (یونس : ۱۷) پھر کیا ضرورت تھی کہ آپ کی نسبت بھی کہا جاتا۔ یہ الفاظ حضرت مسیح کی عزت کو بڑھانے والے نہیں ہیں۔ ان کی براءت کرتے ہیں اور ساتھ ہی ایک کلنک کا بھی پتا دے دیتے ہیں کہ ان پر الزام تھا۔ یا د رکھو کہ کلمہ اور روح کا لفظ عام ہے۔ حضرت مسیح کی کوئی خصوصیت اس میں نہیں ہے یؤمن بِاللهِ وَكَلِمته (الاعراف: ۱۵۹) اب اللہ تعالیٰ کے کلمات تو لا انتہا ہیں اور ایسا ہی صحابہ کی تعریف میں آیا ہے أَيَّدَهُم بِرُوحِ مِنْهُ (المجادلة : ۲۳) پھر مسیح کی کیا خصوصیت رہی؟ حضرت مسیح کی ماں کی نسبت جو صدیقہ کا لفظ آیا ہے یہ بھی دراصل رفع الزام ہی کے لیے آیا ہے یہودی جو معاذ اللہ ان کو فاسقہ فاجرہ ٹھہراتے تھے۔ قرآن شریف نے صدیقہ کہہ کر ان کے الزاموں کو دور کیا ہے کہ وہ صدیقہ تھیں ۔ اس سے کوئی خصوصیت اور فخر ثابت نہیں ہوتا اور نہ عیسائی کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہیں بلکہ ان کو تو یہ امور پیش بھی نہیں کرنے چاہئیں ۔ لے الحکم جلدے نمبر ۱۶ مورخہ ۳۰ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۸