ملفوظات (جلد 5) — Page 84
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد جلد پنجم پانا تھا پالیا۔ اس لحاظ سے ثواب نہیں رہتا ۔ مگر بات اصل یہ ہے کہ ترقیات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے سوا اگر عربی میں الہامات کی کثرت کی وجہ ہم کسی اور راستہ پر چلتے تو ہماری کثرت الہام کسی دوسری زبان میں ہوتی ۔ مگر جب کہ اسی خدا، اسی کی کتاب اور اسی نبی کے اتباع پر ہم چلانا چاہتے ہیں تو پھر ہم کیوں عربی زبان میں مثل لانے کی تحدی نہ کریں؟ حقیقی جنت مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب میں کسی کتاب کا مضمون لکھنے بیٹھتا ہوں اور قلم اٹھاتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا کوئی اندر سے بول رہا ہے اور میں لکھتا جاتا ہوں ۔ اصل یہ ہے کہ یہ ایک ایسا سلسلہ ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کو سمجھا بھی نہیں سکتے ۔ خدا تعالیٰ کا چہرہ نظر آجاتا ہے اور میرا ایمان تو یہ ہے کہ جنت ہو یا نہ ہو۔ خدا تعالیٰ پر پورا یقین ہونا ہی جنت ہے۔ ۲۳ را پریل ۱۹۰۳ء (در بار شام) مسیح کا مقام روح من ای ان میں سے ہند نے ایک ضمون شان کردیاہے کہ قرآن شریف میں حضرت مسیح کی نسبت روح اللہ کا لفظ آیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ سب سے افضل ہیں اس پر حضرت حجتہ اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح کو رُوح منه فرمانے سے اصلی مطلب یہ ہے کہ تا ان تمام اعتراضات کا جواب دیا جاوے جوان کی ولادت کے متعلق کئے جاتے ہیں ۔ یادرکھو ولادت دو قسم کی ہوتی ہے ایک ولادت تو وہ ہوتی ہے کہ اس میں روح الہی کا جلوہ ہوتا ہے اور ایک وہ ہوتی ہے کہ اس میں شیطانی حصہ ہوتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں بھی آیا ہے کہ وَ شَارِهُم فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ (بنی اسراءیل : ۶۵) یہ شیطان کو خطاب ہے۔ غرض خدا تعالیٰ نے رُوحَ مِنْ فرما کر یہودیوں کے اس اعتراض کورڈ کیا ہے جو وہ نعوذ باللہ حضرت مسیح کی ولادت کو نا جائز ٹھہراتے تھے رُوح منہ کہہ کر صاف کر دیا کہ ان کی الحکم جلدے نمبر ۱۶ مورخہ ۳۰ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۵