ملفوظات (جلد 5) — Page 83
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۳ جلد پنجم ایمان کی نعت یہی ہے کہ خدائی نصرتوں کو انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔ ازدیاد ایمان جب وہ خدا کی نصرتوں کو دیکھتا ہے تب اس کا ، اس کا ایمان بڑھتا ہے اور معرفت اور بصیرت کی آنکھ کھلنے لگتی ہے ۔ جب تک خدا تعالیٰ کی نصرتوں کی چمک نظر نہیں آتی اس وقت یہ حالت تذبذب میں رہتا ہے لیکن جب ان کی چہکار نظر آ جاتی ہے اس وقت سینہ کی غلاظتیں دور ہو جاتی ہیں اور اندر ایک صفائی اور نور نظر آتا ہے۔ وہ حالت ہوتی ہے جب اس کے لیے کہا جاتا ہے اتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّهِ - اہل اللہ کہتے ہیں کہ جب انسان عابد کامل ہو عابد کامل سے عبادت کا ساقط ہو جانا جاتا ہے اس وقت اس کی ساری عبادتیں ساقط ہو جاتی ہیں ۔ پھر خود ہی اس جملہ کی شرح کرتے ہیں کہ اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ نماز روزہ معاف ہو جاتا ہے نہیں بلکہ اس سے یہ مطلب ہے کہ تکالیف ساقط ہو جاتی ہیں یعنی عبادات کو وہ ایسے طور پر ادا کرتا ہے جیسے دونوں وقت روٹی کھاتا ہے۔ وہ تکالیف مدرک الحلاوت اور محسوس اللذات ہو جاتی ہیں ۔ پس ایسی حالت پیدا کرو کہ تمہاری تکالیف ساقط ہو جائیں اور پھر خدا تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور نہی سے بچنا فطرتی ہو جاوے۔ جب انسان اس مقام پر پہنچتا ہے تو گو یا ملائکہ میں داخل ہو جاتا ہے جو يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ کے مصداق ہیں ۔ سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ثواب عبادت ضائع ہونے کا مطلب جب آدمی عارف اور عابد ہو جاتا ہے تو اس کی عبادت کا ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔ پھر خود ہی اس کی تشریح کرتے ہیں کہ اس کے یہ معنے ہیں کہ ہر نیکی کا اجر نقد پالیتے ہیں یعنی جب نفس اتارہ بدل کر مطمئنہ ہو جاتا ہے تو وہ تو جنت میں پہنچ گیا۔ جو کچھ (بقیہ حاشیہ ) ہوتی ہے۔ مگر میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ان لوگوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی تعریف میں تو اس قدر غلو کیا ہے ۔ مگر امام حسن رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے وقت ان لوگوں سے ایسا دلی جوش صادر نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ معلوم نہیں کیا ہے؟ شائد یہی با ؟ شائد یہی باعث ہو کہ انہوں نے حضرت معاویہ کی بیعت کر لی تھی ۔ ہوگا الحکم جلدے نمبر ۱۶ مورخه ۳۰ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۸)