ملفوظات (جلد 5) — Page 82
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۲ جلد پنجم که احادیث آثار و غیره و دیگر امور کو پورے ہوتے دیکھ کر ایمان لائے اور ابھی شائد اور بھی چند قسمیں ہوں۔ ہمار انقاره فرمایا کہ اعدا کا وجود ہمارا نقارہ ہے یہ انہی کی مہربانی ہے کہ تبلیغ کرتے رہتے ہیں باره مثنوی میں ایک ذکر ہے کہ ایک دفعہ ایک چور ایک مکان کو نقب لگا رہا تھا ایک شخص نے اوپر سے دیکھ کر کہا کہ کیا کرتا ہے چور نے کہا کہ نقارہ بجارہا ہوں اس شخص نے کہا کہ آواز تو نہیں آتی چور نے جواب دیا کہ اس نقارہ کی آواز صبح کو سنائی دیوے گی اور ہر ایک سنے گا ایسے ہی یہ لوگ شور مچاتے ہیں اور مخالفت کرتے ہیں تو لوگوں کو خبر ہوتی رہتی ہے۔ فلسفہ جدیدہ نے اگر چہ نقصانات بھی پہنچائے ہیں مگر ایک صورت میں فلسفہ جدیدہ کا فائدہ یہ مفید بھی ہوا ہے کہ بہت سی غیر معقول باتوں سے دلوں میں نفرت دلا دی ہے مثلاً یہ فرقہ شیعہ کہ جن کی اصلاح کی کبھی امید نہ تھی مگر اس فلسفہ سے مؤثر ہو کر وہ بھی راہ راست پر آتے جاتے ہیں ۔ ایک شخص کے اس سوال پر کہ اولیاء اللہ صلحاء واتقیاء سے محبت میں غلو نہ کیا جائے سے محبت رکھی جاوے کہ نہ فرمایا کہ ؟ ہم اس کے مخالف نہیں ہیں کہ صلحاء اور اتقیاء اور ابرار سے محبت رکھی جاوے مگر حد سے گذر جانا حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کو مقدم رکھنا یہ مناسب نہیں ہے جیسے کہ گذشتہ ایام میں بعض شیعہ کی طرف سے ایک کتاب شائع ہوئی اس میں لکھا تھا کہ صرف امام حسین کی شفاعت سے تمام انبیاء نے سے نجات پائی۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسر شان ہے۔ اس سے تو ثابت ہوا کہ خدا نے غلطی کی کہ آنحضرت پر قرآن نازل کیا اور حسین پر نہ کیا۔ ۲۰۱ البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۱۵ کے الحکم میں ہے۔ فرمایا کہ ہمارا ایمان ہے کہ بزرگوں اور اہل اللہ کی تعظیم کرنی چاہیے لیکن حفظ مراتب بڑی ضروری ھے ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ حد سے گزر کر خود ہی گنہگار ہو جائیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا دوسرے نبیوں کی وہ شخص جو کہتا ہے کہ گل انبیاء علیہم السلام حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی امام حسین ہی کی شفاعت سے نجات پائیں گے اس نے کیا غلو کیا ہے جس سے سب نبیوں کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہتک ہو جائے وہ